آہ شکیل فاروقی۔ باتیں ان کی یاد رہیں گی
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
متین فکری
ممتاز براڈ کاسٹر، ادیب، شاعر، دانشور اور کالم نگار محترم شکیل فاروقی بھی اللہ کے حضور پیش ہوگئے، انااللہ واناالیہ راجعون۔
موت سے کس کو رستگاری ہے
آج وہ، کل ہماری باری ہے
ریڈیو پاکستان اسلام آباد میں شکیل فاروقی صاحب سے پہلی ملاقات کا منظر آج بھی آنکھوں کے سامنے پھر رہا ہے۔ ہم ڈائریکٹر کرنٹ افیئر سید نذیر بخاری کے کمرے میں بیٹھے ان کے ساتھ حالات حاضرہ کے موضوع پر گفتگو کررہے تھے کہ ایک صاحب اچانک کمرے میں داخل ہوئے اور سلام و دعا کے بعد بات چیت میں شریک ہوگئے۔ تاہم تعارف ابھی باقی تھا۔ ہم نے پہلی کرتے ہوئے کہا کہ خاکسار کو متین فکری کہتے ہیں ایک قومی اخبار سے وابستہ ہوں، ریڈیو پاکستان کے لیے حالات حاضرہ پر تبصرہ بھی لکھتا ہوں، اس سلسلے میں یہاں آنا جانا رہتا ہے۔ اس طرح دوستوں سے ملاقات بھی ہوجاتی ہے، اگرچہ مجھے یہ سہولت حاصل ہے کہ یہاں باقاعدگی سے آنا نہیں پڑتا۔ ڈائریکٹر کرنٹ افیئر مجھے ٹیلی فون پر موضوع بتادیتے ہیں، میں اپنے دفتر میں تبصرہ لکھ کر ٹیلی فون پر مطلع کرتا ہوں تو ریڈیو کا ایک اہلکار گاڑی پر آکر مسودہ لے جاتا ہے۔ (واضح رہے کہ یہ وہ زمانہ تھا جب ریڈیو پر بھی فیکس کی سہولت دستیاب نہ تھی) شکیل صاحب بڑے صبر سے یہ سب کچھ سنتے رہے پھر مسکراتے ہوئے بولے ’’متین صاحب آپ کو کون نہیں جانتا ہر دوسرے دن ریڈیو پر آپ کا نام گونجتا ہے۔ ’’تبصرہ آپ نے سنا اسے متین فکری نے تحریر کیا‘‘ البتہ میرا تعارف ضروری ہے۔ خاکسار کو شکیل فاروقی کہتے ہیں میں بھی ریڈیو پاکستان میں ملازم ہوں اس کی ہندی نشریات کی نگرانی کرتا ہوں۔ ’’مجھے الگ کمرے میں جا کر حالات حاضرہ میں تبصرہ لکھنا تھا اس لیے میں اپنی نشست سے اُٹھتے ہوئے بولا ’’اچھا شکیل صاحب اجازت دیجیے پھر ملاقات ہوگی‘‘۔
’’اجازت کیسی، آپ میرے ساتھ میرے دفتر چلیں گے وہاں چائے پر تعارف کا دوسرا رائونڈ ہوگا‘‘۔
میں نے انہیں بتایا کہ مجھے حالات حاضرہ پر تبصرہ لکھنا ہے اس میں کم از کم ایک گھنٹہ تو لگے گا۔
کہنے لگے ’’ٹھیک ہے آپ تبصرہ لکھیے۔ جب کام ختم ہوجائے تو انٹر کام پر اطلاع دیجیے میں آپ کو آکر لے جائوں گا‘‘۔
میں نے تبصرہ مکمل کیا تو شکیل صاحب کو اطلاع دی وہ مجھے تیسری منزل پر اپنے کمرے میں لے گئے چائے کا آرڈر شاید انہوں نے پہلے سے دے رکھا تھا تھوڑی دیر میں پُرتکلف چائے آگئی اور ہم نے چائے کی چُسکی لیتے ہوئے ایک دوسرے کو اپنی رام کہانی سنائی۔
یہ نشست کوئی گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہی اس دوران ہم نے ایک دوسرے کا مکمل تعارف حاصل کیا اس میں فیملی کا تعارف بھی شامل تھا۔ میں شکیل صاحب کے پاس سے اُٹھا تو ہماری دوستی پکی ہوچکی تھی۔ نہایت شستہ، شائستہ اور وضعدار شخصیت کی حیثیت سے ان کا تعارف دل میں گھر کر گیا تھا۔ پھر ملاقاتیں معمول بن گئیں۔ جب بھی ریڈیو پاکستان اسلام آباد جانا ہوتا شکیل صاحب سے لازماً ملاقات ہوتی اور طویل گپ شپ رہتی۔ وہ صحافت، سیاست، ادب اور شاعری کے بارے میں بڑی نپی تلی رائے رکھتے تھے۔ خود بھی شاعر تھے لیکن کبھی اپنی شاعر سنانے کی کوشش نہیں کی۔ میں نے انہیں فیملی کے ساتھ گھر پر دوپہر کی دعوت دی جو انہوں نے بخوشی قبول کرلی اور ماڈل ٹائون ہمک اسلام آباد میں بچوں کے ساتھ تشریف لے آئے۔ فیملی آپس میں گھل مل گئی، خواتین اپنے دکھڑے رونے لگیں اس گھریلو ماحول میں ہم نے دوپہر کا کھانا کھایا۔ پھر شام تک ہمارا ساتھ رہا۔
شکیل صاحب ریٹائر ہو کر کراچی چلے گئے تو کراچی میں بھی موبائل پر ان سے رابطہ رہا۔ کئی سال پہلے میرا کراچی جانا ہوا تو انہیں اطلاع دی اپنی قیام گاہ کا پتا بتایا تو اگلے دن ملاقات کے لیے تشریف لے آئے، چہرہ سفید ڈاڑھی سے نور واعلیٰ نور تھا۔ گلے ملے اور دیر تک باتیں کرتے رہے۔ شکیل صاحب اب ہم میں نہیں ہیں لیکن ان کی باتیں ہمیشہ یاد رہیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ریڈیو پاکستان حالات حاضرہ شکیل فاروقی شکیل صاحب
پڑھیں:
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے تک فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششیں، عوام کی غیرمتزلزل حمایت کے ساتھ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کو یقینی بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی، پاکستان میں جہاں بھی دہشت گردوں کا انفرا اسٹرکچر ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنے گا، اسے ختم کرنے کے لیے اپنے غیرمتزلزل عزم پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی، عدم استحکام اور امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم مسلح افواج عوام کی یک جہتی اور ثابت قدمی کے ساتھ ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بلوچستان کو پاکستان کا فخر قرار دیا اور کہا کہ یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل، محب وطن، باصلاحیت اور باہمت عوام سے مالا مال ہے، جو بلوچستان کی اصل طاقت ہیں۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوام دوست اور جامع منصوبوں پر عمل پیرا ہیں، جن کا مقصد صوبے کی تقدیر بدلنا ہے۔
انہوں نے قومی یک جہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا اور کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کے لیے قومی اتحاد، استقلال اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو میں تقریب کے اختتام پر شرکا کے ساتھ تفصیلی سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں شرکا نے پاکستان کے استحکام، ترقی، امن اور خودمختاری کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔