Jasarat News:
2026-07-24@09:54:03 GMT

کپاس کا مسلسل زوال معیشت کے لیے خطرہ بن گیا ہے

اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (کامرس ڈیسک)معروف معاشی ماہر اور اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے سابق صدر شاہد رشید بٹ نے کہا ہے کہ کپاس کی مسلسل گرتی ہوئی پیداوار معیشت کے لیے ایک بڑاخطرہ بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے کسانوں اور ٹیکسٹائل صنعت کی مشکلات پر توجہ دینا خوش آئند ہے لیکن صرف اعلانات کافی نہیں۔ فوری مربوط اور عملی اقدامات کیے بغیر کپاس کی معیشت کو سہارا دینا ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ کپاس کی امدادی قیمت 8500 روپے فی 40 کلو مقرر کرنے اور اعلیٰ سطحی کمیٹی کی تشکیل بروقت فیصلہ ہیتاہم اگر ان فیصلوں پر فوری عملدرآمد نہ ہوا تو یہ اقدامات بے اثر رہیں گے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں شاہد رشید بٹ نے انکشاف کیا کہ کپاس کی پیداوار گزشتہ ایک دہائی میں 60 فیصد سے زائد گر چکی ہے۔ ایک وقت میں ملک میں 1 کروڑ 40 لاکھ گانٹھیں پیدا ہوتی تھیں، جو اب گھٹ کر صرف 55 لاکھ گانٹھ رہ گئی ہیں۔ اس کمی نے پاکستان کو درآمدی کپاس پر انحصار کرنے پر مجبور کر دیا ہے جس سے قیمتی زرمبادلہ ضائع ہو رہا ہے اور برآمدی مسابقت بھی شدید متاثر ہو رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2024-25 میں کپاس کی درآمدات کا تخمینہ 5.

4 ملین گانٹھ ہے جس پر پر 1.9 ارب ڈالر لاگت آئے گی جس سے کرنٹ اکاؤنٹ اور زر مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ آئے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 60 فیصد برآمدات اور 11 فیصد جی ڈی پی کا تعلق کپاس اور ٹیکسٹائل سے ہے اور اس شعبے میں بحران سے نہ صرف ملکی معیشت بلکہ لاکھوں کسانوںمزدوروں اور صنعتکاروں کی زندگی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ پیداوار میں کمی کے باعث 60 فیصد سے زائد جننگ فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں جس سے بیروزگاری بڑھی ہے۔ان کاکہنا تھاکہ ناقص بیج، موسمیاتی تبدیلی، مہنگی پیداواری لاگت، گنے کی کاشت میں اضافہ اور پالیسیوں کا عدم تسلسل کپاس کے زوال کی بنیادی وجوہات ہیں۔ زرعی تحقیقی ادارے بھی مقامی طور پر معیاری بیج فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے کپاس کی نے کہا

پڑھیں:

امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام

امریکہ نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فوجی کارروائیاں جاری رکھیں جبکہ ایرانی شہر اہواز میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں تصدیق کی کہ امریکی افواج نے جمعرات کی شب ایران کے فوجی اہداف پر ایک اور حملہ کیا۔ بیان کے مطابق یہ کارروائیاں مسلسل 13 ویں رات جاری رہیں۔

U.S. forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET today. This is the 13th consecutive night of strikes aimed to hold Iran accountable and diminish threats from the Islamic Revolutionary Guard Corps to commercial shipping.

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل

جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی

— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 23, 2026

سینٹکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کو اس کے اقدامات پر جوابدہ بنانا اور پاسداران انقلاب کی جانب سے تجارتی بحری جہازوں کو لاحق خطرات کو کم کرنا ہے۔

دوسری جانب ایران کے صوبہ خوزستان کے دارالحکومت اہواز کے رہائشیوں نے جمعہ کی علی الصبح متعدد زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق دھماکوں کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ