Jasarat News:
2026-06-03@07:59:16 GMT

کپاس کا مسلسل زوال معیشت کے لیے خطرہ بن گیا ہے

اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (کامرس ڈیسک)معروف معاشی ماہر اور اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے سابق صدر شاہد رشید بٹ نے کہا ہے کہ کپاس کی مسلسل گرتی ہوئی پیداوار معیشت کے لیے ایک بڑاخطرہ بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے کسانوں اور ٹیکسٹائل صنعت کی مشکلات پر توجہ دینا خوش آئند ہے لیکن صرف اعلانات کافی نہیں۔ فوری مربوط اور عملی اقدامات کیے بغیر کپاس کی معیشت کو سہارا دینا ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ کپاس کی امدادی قیمت 8500 روپے فی 40 کلو مقرر کرنے اور اعلیٰ سطحی کمیٹی کی تشکیل بروقت فیصلہ ہیتاہم اگر ان فیصلوں پر فوری عملدرآمد نہ ہوا تو یہ اقدامات بے اثر رہیں گے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں شاہد رشید بٹ نے انکشاف کیا کہ کپاس کی پیداوار گزشتہ ایک دہائی میں 60 فیصد سے زائد گر چکی ہے۔ ایک وقت میں ملک میں 1 کروڑ 40 لاکھ گانٹھیں پیدا ہوتی تھیں، جو اب گھٹ کر صرف 55 لاکھ گانٹھ رہ گئی ہیں۔ اس کمی نے پاکستان کو درآمدی کپاس پر انحصار کرنے پر مجبور کر دیا ہے جس سے قیمتی زرمبادلہ ضائع ہو رہا ہے اور برآمدی مسابقت بھی شدید متاثر ہو رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2024-25 میں کپاس کی درآمدات کا تخمینہ 5.

4 ملین گانٹھ ہے جس پر پر 1.9 ارب ڈالر لاگت آئے گی جس سے کرنٹ اکاؤنٹ اور زر مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ آئے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 60 فیصد برآمدات اور 11 فیصد جی ڈی پی کا تعلق کپاس اور ٹیکسٹائل سے ہے اور اس شعبے میں بحران سے نہ صرف ملکی معیشت بلکہ لاکھوں کسانوںمزدوروں اور صنعتکاروں کی زندگی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ پیداوار میں کمی کے باعث 60 فیصد سے زائد جننگ فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں جس سے بیروزگاری بڑھی ہے۔ان کاکہنا تھاکہ ناقص بیج، موسمیاتی تبدیلی، مہنگی پیداواری لاگت، گنے کی کاشت میں اضافہ اور پالیسیوں کا عدم تسلسل کپاس کے زوال کی بنیادی وجوہات ہیں۔ زرعی تحقیقی ادارے بھی مقامی طور پر معیاری بیج فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے کپاس کی نے کہا

پڑھیں:

کاروباری رہنماؤں کا حکومتی معاشی پالیسیوں پر اعتماد، تعاون جاری رکھنے کا عزم

وزیراعظم شہباز شریف سے ملک کے معروف صنعتکاروں اور ممتاز کاروباری شخصیات کے وفد نے ملاقات کی، جس میں ملکی معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے اور مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ کے حوالے سے کاروباری برادری کی تجاویز اور آرا پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں میاں محمد منشا، عارف حبیب، عاطف باجوہ، محمد علی ٹبا، مصدق ذوالقرنین، زیاد بشیر، شہزاد سلیم، زیلاف منیر، عمر سعید، عمر منشا، یوسف سعید، کامران ارشد، خرم مختار، آصف پیر، سلطان گوہر اعجاز، فواد انور، ذوالفقار حیات، جاوید اقبال، یوسف حسین، عامر ابراہیم، خواجہ مسعود اختر اور اعجاز نبی سمیت ملک کی نمایاں کاروباری شخصیات شریک ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ چین، 2 اہم مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کرلیے گئے

وزیراعظم نے وفد کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ کاروباری برادری پاکستان کی عالمی سطح پر پہچان اور ملک کی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مشکل معاشی حالات میں حکومت کا ساتھ دینے پر کاروباری برادری کے شکر گزار ہیں اور حکومت و نجی شعبے کی مضبوط شراکت داری ہی پائیدار معاشی ترقی کی ضمانت ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی معیشت سے متعلق پالیسی سازی میں کاروباری برادری سے مشاورت انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے معروف صنعتکاروں اورکاروباری شخصیات کے وفد کی ملاقات،مشکل معاشی حالات میں حکومت کا ساتھ دینے پر کاروباری برادری کے شکر گزار ہیں،بجٹ میں عوام کو ریلیف کیلئے اقدامات شامل کئے جا رہے ہیں،غیر رسمی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے اقدامات کئے جا رہے… pic.twitter.com/7ST7m94Wc4

— Ali Tanoli (@alitanoli889) June 3, 2026

انہوں نے واضح کیا کہ حکومت برآمدات پر مبنی ترقی کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے اور یہی ملکی معاشی پالیسی کا بنیادی محور ہے۔

وزیراعظم کے مطابق غیر رسمی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ آئندہ بجٹ میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے بھی مختلف تجاویز شامل کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کاروبار دوست پالیسیوں کی بدولت ملکی معیشت میں استحکام آیا ہے اور بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے، حکومت ایسی صنعتوں کے فروغ کے لیے کوشاں ہے جن سے ملکی پیداوار اور برآمدات میں اضافہ ہو اور روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا ہوں۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف سے چینی وفد کی ملاقات، پاک چین دوستی کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ

وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ صنعت، زراعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں کی ترقی سے معیشت مزید مضبوط ہوگی اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

انہوں نے بتایا کہ نوجوانوں کو ہنر مند بنانے اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے تکنیکی اور فنی تربیتی پروگرام بھی شروع کیے گئے ہیں۔

ملاقات کے دوران وفد کو کاروبار، صنعت اور تجارت کے فروغ کے لیے حکومتی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ٹیکس مقدمات کے فوری تصفیے کے لیے ٹیکس ٹریبونلز میں اصلاحات کی گئی ہیں اور ان میں شفاف طریقہ کار کے تحت تقرریاں عمل میں لائی گئی ہیں، اس کے علاوہ اسپیشل کمرشل کورٹس کے قیام کے لیے کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے۔

شرکا کو بتایا گیا کہ کراچی کی بندرگاہوں سے اندرون ملک تجارتی رسائی بہتر بنانے کے لیے موٹروے ایم 10 کی اپ گریڈیشن اور پیپری فریٹ کوریڈور پر کام جاری ہے جبکہ کھاریاں اور کے درمیان راولپنڈی موٹروے ایم 13 کی تعمیر سے لاہور اور اسلام آباد کے درمیان سفری فاصلے میں کمی آئے گی۔

بریفنگ کے مطابق پاکستان ریلوے کی ایم ایل 1 اور ایم ایل 2 اپ گریڈیشن سے ریلوے انفرا اسٹرکچر اور مال برداری کے نظام میں نمایاں بہتری آئے گی، حکومت قومی سطح پر مصنوعی ذہانت کے فروغ کے لیے نیشنل اے آئی ٹرانسفارمیشن پلان بھی تشکیل دے رہی ہے۔

مزید پڑھیں: چین میں لیبر مہنگی ہوچکی، چینی کمپنیاں صنعتیں پاکستان منتقل کریں، وزیراعظم شہباز شریف کی پیشکش

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ شوگر اور سیمنٹ سیکٹر میں ویڈیو اینالیٹکس سسٹم کی تنصیب سے ریونیو وصولیوں میں بہتری آئی ہے۔

اس موقع پر کاروباری رہنماؤں نے خطے میں امن کے فروغ کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں پر وزیراعظم اور ان کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا اور وزیراعظم کی قیادت میں معاشی بحالی کے سفر اور بہتر مالیاتی نظم و نسق پر اعتماد کا اظہار کیا۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کا پُرامن باہمی طرزِ زندگی کے عالمی دن پر امن، رواداری اور انسانی حقوق کے فروغ کا عزم

وفد نے ملکی معیشت کو درست سمت میں گامزن کرنے، سرمایہ کاری اور کاروبار کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور دستاویزی معیشت کے فروغ، ٹیکس اصلاحات اور کاروباری آسانیوں کے اقدامات کو سراہا۔

کاروباری رہنماؤں نے صنعتوں کے لیے بجلی کے نرخوں میں کمی، ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ لیوی کے خاتمے اور ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگیوں پر وزیراعظم کا شکریہ بھی ادا کیا۔

شرکاء نے آئندہ بجٹ کی تیاری میں کاروباری برادری کو اعتماد میں لینے کے حکومتی اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے قومی معیشت کی مضبوطی، صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے حوالے سے اپنی تجاویز وزیراعظم کو پیش کیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بجٹ ٹیکس نیٹ شراکت دار شہباز شریف صنعتکار کاروباری برادری کاروباری شخصیات معاشی ترقی وزیراعظم شہباز شریف

متعلقہ مضامین

  • بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے پر عزم ہیں،وزیراعظم
  • بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلیے اقدامات کر رہے ہیں، وزیراعظم
  • رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے ٹیکسوں میں بڑی کمی اور فائلر کیلیےبڑے ریلیف  کی تجاویز
  • کاروباری رہنماؤں کا حکومتی معاشی پالیسیوں پر اعتماد، تعاون جاری رکھنے کا عزم
  • مزدوروں کیلئے خوشخبری، کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ