ٹرین کا سفر کرنے والوں کیلئے اچھی خبر
اشاعت کی تاریخ: 24th, February 2025 GMT
ویب ڈیسک : ٹرین کا سفر کرنے والے افراد کیلئے اچھی خبر ہے کہ کراچی اور لاہور کے درمیان چلنے والی شاہ حسین ایکسپریس ٹرین 25فروری سے بحال کی جا رہی ہے۔
پاکستان ریلوے کے سی ای او عامر علی بلوچ نے آج شاہ حسین ایکسپریس کا معائنہ کیا، ان کے ہمراہ ڈی ایس ریلوے لاہور محمد حنیف گل سمیت دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔ حکام نے شاہ حسین ایکسپریس کی تمام کوچز اور تمام کلاسز کا تفصیلی معائنہ کیا، کوچز کی خوبصورتی، معیار سمیت صفائی ستھرائی کا بھی معائنہ کیا گیا، معائنے کے دوران لائٹنگ، فینز اور دیگر سفری سہولیات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
پاک سعودی تجارتی تعلقات مزید مضبوط؛ حجم 700 ملین ڈالر تک پہنچ گیا
عامرعلی بلوچ نے کہا کہ مسافر پاکستان ریلوے کا سرمایہ ہیں مسافروں کوبہترین سفری سہولت فراہمی کیلئے کوشاں ہیں۔
شاہ حسین ایکسپریس کراچی کینٹ سے رات 7 بجکر 30 منٹ پر روانہ ہوکر حیدرآباد، روہڑی، بہاولپور، لودھراں، خانیوال، فیصل آباد سے ہوتی ہوئی اگلے روز دوپہر 2 بجکر 15 منٹ پر لاہور ریلوے اسٹیشن پہنچے گی۔ اس کے علاوہ شاہ حسین ایکسپریس لاہور سے رات 7 بجے روانہ ہوکر 2 بجکر پانچ منٹ پر کراچی کینٹ پہنچے گی، ٹرین 10 اکانومی کلاس کوچز، 2 اے سی بزنس، 2 اے سی اسٹینڈرڈ، ایک پاور پلانٹ اور ایک برین وین پر مشتمل ہوگی۔
ویڈیو؛ بھارت سے شکست، مداح نے پاکستانی جرسی کے اوپر بھارتی شرٹ پہن لی
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: شاہ حسین ایکسپریس
پڑھیں:
خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔(جاری ہے)
انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔