WE News:
2026-06-03@00:43:18 GMT

لکی ایرانی سرکس کا کلچر کیوں غیر مقبول ہو رہا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 28th, February 2025 GMT

لکی ایرانی سرکس پاکستان کے قدیم ترین سرکس میں سے ہے، جو تقریباً 1969 سے پاکستانیوں کو تفریح مہیا کررہا یے، اس سرکس میں لائیو شو پرفارم کیے جاتے ہیں لیکن حکومت کی عدم توجہ اور سختیوں کی وجہ سے پاکستان میں سرکس ٹرینڈ دن بہ دن معدوم ہو رہا ہے، جس سے نہ صرف یہ کلچر ختم ہو رہا ہے بلکہ اس سے جڑے درجنوں افراد کا روزگار بھی شدید متاثر ہورہا ہے۔

اس سرکس سے جڑے افراد کا وی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس کلچر کو محفوظ رکھنے کے لیے سنجیدگی سے کچھ اقدامات کرے، کیونکہ یہ ہماری ثقافت کا حصہ ہے، نوجوان نسل کا اس ثقافت سے آگاہ ہونا بہت ضروری ہے تاکہ وہ اپنے کلچر اور ثقافت کو جان سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سے ہمارے روزگار جڑے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ان میلوں پر پابندیوں یا سختیوں نے ان کے روزگار کو تقریبا ختم کردیا ہے۔

لکی ایرانی سرکس سے جڑے فنکاروں کا یہ بھی کہنا تھا کہ بیشک ٹی وی اور سوشل میڈیا آگیا ہے جہاں لوگ بہت کچھ ایک کلک سے دیکھ سکتے ہیں، لیکن لائیو پروگرام کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا۔

لکی ایرانی سرکس میں تفریح کے لیے آئے لوگوں کا کہنا تھا کہ اس طرح کے میلے لگنے چاہیے، کیونکہ یہ تفریح کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ پہلے پہل تو گاؤں دیہاتوں میں اس طرح کے میلے نظر آجایا کرتے تھے مگر اب وہاں بھی یہ روایت ختم ہو رہی ہے۔

اسلام آباد جیسے شہر میں یہ سرکس دیکھ کر بہت اچھا لگ رہا یے اور یقینا ایسی تقریبات بڑھنی چاہئیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news اسلام اباد پاکستان تفریح حکومت پاکستان فنکار لکی ایرانی سرکس میلے.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسلام اباد پاکستان تفریح حکومت پاکستان فنکار لکی ایرانی سرکس میلے لکی ایرانی سرکس کہنا تھا کہ رہا ہے

پڑھیں:

چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟

پاکستانی اداکار شہزاد نواز نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں پاکستانی کرنسی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹا دی جائے۔حال ہی میں شہزاد نواز سے اداکار علی سفینہ نے انٹرویو لیا جس میں ملکی حالات سمیت دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔علی سفینہ نے کہا 'جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے تو آپ کو اپنے اردگرد تبدیلیاں نظر آتی ہیں، مثلاً ایک ثقافتی پالیسی کہتی ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال ہیرو ہیں، ہم ان کے دور حکومت میں ان سب کو دیکھتے ہیں، ان کی تصاویر لگائی جاتی ہیں کہ پھر دوسری آنے والی حکومت ان کی تصویریں ہٹا کر اپنے قائدین کی تصویریں لگادیتے ہیں'۔شہزاد نواز نے سوال کیا کیا ایسا ہوا ہے؟ یہ غالباً کراچی ائیرپورٹ پر ہوا تھا، جواب میں علی نے کہا بالکل۔علی سفینہ سے گفتگو کے دوران شہزاد نواز کا کہنا تھا 'اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمام کرنسی نوٹوں سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دوں گا کیونکہ لوگوں میں کوئی شرم نہیں ہے، رشوت لے رہے ہیں اور دے رہے ہیں، فراڈ میں ملوث ہیں جب کہ کرنسی نوٹوں پر ان کی تصویر ہے اور وہ آپ کو یہ سب کرپٹ کام کرتے دیکھ رہے ہیں'۔انہوں نے کہا 'اگر اسی طرح نوٹوں کی سرعام بے عزتی ہوتی رہی تو اس تصویر کا کیا فائدہ، ضیاالحق کے دور میں بڑی اچھی تبدیلی آئی کے نوٹوں پر عبارت درج کی گئی رزقِ حلال عین عبادت ہے'۔شہزاد نواز نے کہا 'بعدازاں مشرف کے دور میں اس عبارت کو چھوٹا کردیا گیا، میرے خیال میں اب اسے نوٹوں پر سے نکال دینا چاہیے'۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟