9بڑے شہروں میں پلاسٹک میں لائسنسن رجسٹریشن ڈیسک قائم ، 5سالہ ٹرانسپورٹ پلان منظور
اشاعت کی تاریخ: 28th, February 2025 GMT
لاہور (نوائے وقت رپورٹ) وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کی ہدایت پر صوبے کے نو بڑے شہروں میں پلاسٹک لائسنس رجسٹریشن ڈیسک قائم کر دیئے گئے۔ پنجاب کو زیرو پلاسٹک صوبے بنانے کیلئے پلاسٹک مینوفیکچررز، ریسائکلرز، ٹریڈرز اور سیلرز کی آن لائن رجسٹریشن شروع کر دی گئی۔ پلاسٹک لائسنس رجسٹریشن کے لئے لاہور میں 25 فروری اور گرجرانوالہ میں27 فروری کو ڈیسک فعال ہو رہے ہیں۔ سیالکوٹ میں آج (28فروری) جبکہ ملتان اور بہاولپور میں 4 اور 5مارچ کو پلاسٹک لائسنس رجسٹریشن ڈیسک فنکشنل کر دیئے جائیں گے۔ پلاسٹک لائسنس رجسٹریشن ڈیسک ڈیرہ غازی خان اور فیصل آباد 7 اور 11مارچ اسی طرح جھنگ اور راولپنڈی میں 12اور 15 مارچ سے سنٹر فنکشنل ہونگے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پرعوام کی سہولت کیلئے گرین پنجاب ایپ ٹال فری نمبر1373جاری کر دیا گیا۔ مزید معلومات اور رہنمائی -4 042-37897103 اور 0322-4474915 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔ پلاسٹک لائسنس رجسٹریشن ڈیسک کیلئے ویب سائٹ epd.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔