کرد جنگجوؤں کے سربراہ کی جماعت کا 40 سال بعد ترکی سے جنگ بندی کا اعلان WhatsAppFacebookTwitter 0 1 March, 2025 سب نیوز

کرد عسکریت پسند تنظیم کُردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کی جانب سے ترکی کے ساتھ 40 سالہ مسلح جدوجہد کے بعد جنگ بندی کا اعلان کر دیا گیا۔ یہ اعلان ہفتے کے روز کیا گیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کرد رہنما عبداللہ اوجلان کی طرف سے لڑائی روکنے اور گروپ کو تحلیل کرنے کے مطالبے کے بعد پی کے کے کی جانب سے یہ پہلا ردعمل ہے۔
رپورٹ کے مطابق اوجلان کی جانب سے رواں ہفتے تنظیم ختم کرنے اور ہتھیار ڈالنے کی اپیل کی گئی تھی، جس کے بعد یہ پی کے کے کا پہلا باضابطہ ردعمل ہے۔
رپورٹ کے مطابق پی کے کے کی ایگزیکٹو کمیٹی نے ایک بیان میں اعلان کیا تھا کہ وہ آج سے شروع ہونے والی جنگ بندی کا اعلان کر رہے ہیں۔ یہ امن اور جمہوری معاشرے کے لیے عبداللہ اوجلان کی کال کی حمایت کرنا ہے۔
واضح رہے کہ 1984 میں پی کے کے نے کردوں کے لیے علیحدہ وطن کے قیام کے لیے مسلح جدوجہد اور جنگ کا آغاز کیا تھا، جس کے بعد سے اب تک 40 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو ئے تھے۔ کمیٹی نے کہا کہ وہ اس فیصلے سے پوری طرح متفق ہیں اور اس پر عمل کریں گے۔
کرد رہنما عبداللہ اوجلان کو 1999 میں قید کیا گیا تھا۔ ان کی گرفتار کے بعد کئی بار اس تنازع کو ختم کرنے کی کوششیں کی گئیں جس میں ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں۔2015 میں آخری امن مذاکرات ناکام ہونے کے بعد کسی بھی قسم کی بات چیت بند ہو گئی تھی۔
تاہم، اکتوبر 2023 میں صدر رجب طیب اردگان کے ایک سخت گیر قوم پرست اتحادی نے اس شرط پر مفاہمت کی پیشکش کی کہ اوجلان تشدد کو ختم کریں۔

رجب طیب اردگان نے اس مفاہمت کی حمایت کی، لیکن اس کے ساتھ ہی حکومت نے اپوزیشن پر دباؤ بڑھا دیا اور سینکڑوں سیاستدانوں، کارکنوں اور صحافیوں کو گرفتار کر لیا۔

عبداللہ اوجلان سے ان کی جزیرہ نما جیل میں کئی ملاقاتوں کے بعد، کردوں کی حامی ڈی ای ایم پارٹی نے جمعرات کو ان کا پیغام پہنچایا، جس میں پی کے کے سے ہتھیار ڈالنے اور تنظیم کو تحلیل کرنے کے لیے کانگریس بلانے کی اپیل کی گئی تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: جنگ بندی کا اعلان عبداللہ اوجلان پی کے کے کے بعد کے لیے

پڑھیں:

شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان

ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بجلی صارفین متوجہ ہوں،اہم اعلان سامنے آگیا
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان