رمضان المبارک میں بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ ناقابلِ قبول ہے، ناصر حسین شاہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, March 2025 GMT
اپنے بیان میں وزیر توانائی سندھ نے خبردار کیا کہ اگر رمضان میں سحر و افطار کے دوران بجلی یا گیس کی بندش جاری رہی تو عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا، جو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، وفاقی حکومت بجلی اور گیس کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنائے اور عوام کو سہولت فراہم کرے۔ متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ وزیر توانائی سندھ سید ناصر حسین شاہ نے رمضان المبارک میں بجلی اور گیس کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کو فوری انتظامات بہتر بنانے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رمضان میں لوڈشیڈنگ عوام کے ساتھ زیادتی ہوگی اور یہ کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ وزیر توانائی نے اپنے بیان میں کہا کہ مارچ میں سردی ختم ہو چکی ہے، اس کے باوجود گیس کی لوڈشیڈنگ سمجھ سے بالاتر ہے، وزیراعظم فوری نوٹس لیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت اپنے تمام محکموں کو پابند کرے کہ رمضان المبارک میں عوام کو کسی بھی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ سید ناصر حسین شاہ نے خبردار کیا کہ اگر رمضان میں سحر و افطار کے دوران بجلی یا گیس کی بندش جاری رہی تو عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا، جو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت بجلی اور گیس کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنائے اور عوام کو سہولت فراہم کرے۔
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گیس کی
پڑھیں:
عمران خان سے ملاقاتیں روکنا ناقابلِ برداشت ہے، حلیم عادل شیخ
ایک بیان میں پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ عمران خان اس ملک اور قوم کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں اور پوری قوم حقیقی آزادی چاہتی ہے، جب تک سیاسی استحکام نہیں آئے گا، معاشی بہتری ممکن نہیں، عمران خان سے ان کی بہنوں اور پارٹی قائدین کی فوری ملاقات کو یقینی بنایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے ایک وڈیو بیان میں شدید تحفظات اور خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان جو کہ ملک کے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین ہیں، ان پر عائد ملاقات کی پابندی قابل برداشت نہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ عدالتی احکامات کے باوجود عمران خان سے ان کے اہلِ خانہ اور پارٹی قائدین کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلوں کا اب کوئی احترام نہیں رہا اور 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ بھی مخصوص احکامات کے تحت کام کرتی دکھائی دیتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب عمران خان کی بہنیں اور پارٹی قائدین عدالتی احکامات کی روشنی میں اڈیالہ جیل جاتے ہیں تو انہیں نہ صرف گرفتار کیا جاتا ہے بلکہ دور دراز ویران علاقوں میں چھوڑ دیا جاتا ہے جس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں آئین و قانون کی بالادستی ختم ہوچکی ہے اور اظہارِ رائے پر بھی پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔ انہوں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ قوم پر زبردستی کے فیصلے مسلط کیے جا رہے ہیں، جو کہ ملک کو مزید تقسیم کی طرف لے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا یہ وقت قوم میں نفرتیں بڑھانے کا نہیں، محبتیں بانٹنے کا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں ہر طرف انتشار ہے جبکہ دریائے سندھ پر نئے نہری منصوبوں کے خلاف سندھ کی عوام سراپا احتجاج بنی ہوئی ہے، لیکن حکومت عوام کے مسائل سے لاتعلق ہے۔ پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ ملک میں عوام کی امنگوں کے مطابق فیصلے نہیں ہو رہے، مینڈیٹ چوری کیا گیا ہے اور جعلی اراکین کو فارم 47 کے تحت اقتدار سونپا گیا ہے، جس کے باعث پاکستان کی عالمی سطح پر بدنامی ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان اس ملک اور قوم کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں اور پوری قوم حقیقی آزادی چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک سیاسی استحکام نہیں آئے گا، معاشی بہتری ممکن نہیں۔ حلیم عادل شیخ نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو مہنگائی میں کمی کے جھوٹے اعداد و شمار دکھائے جا رہے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، دنیا بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی آئی ہے لیکن پاکستان میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا جا رہا۔ حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان سے ان کی بہنوں اور پارٹی قائدین کی فوری ملاقات کو یقینی بنایا جائے، دریائے سندھ پر چھ نئے نہروں کے منصوبوں کو ترک کیا جائے اور ملک میں فوری طور پر سیاسی و معاشی استحکام کی راہ ہموار کی جائے تاکہ عوامی اعتماد بحال ہو سکے۔