وزیراعظم شہباز شریف کا جنگلی حیات کے عالمی دن پر خصوصی پیغام
اشاعت کی تاریخ: 3rd, March 2025 GMT
وزیراعظم محمد شہباز شریف — فائل فوٹو
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جنگلی حیات کے عالمی دن پر اپنا خصوصی پیغام جاری کیا ہے۔
شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ جنگلی حیات کا عالمی دن انسانیت اور فطرت کے درمیان تعلق کے طور پر منایا جاتا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے ذمہ داری پر غور کریں۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو مسحور کن حیاتیاتی تنوع سے نوازا گیا ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم کے خلاف شکایات کا نوٹس لے لیا۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ گرین پاکستان پروگرام مقامی کمیونٹیز کو معاشی مواقع فراہم کرتا ہے، یہ پروگرام غیر قانونی شکار اور رہائش گاہوں کی تباہی کو روکتا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ حیاتیاتی تنوع کی اہمیت پر بیداری پیدا کرنے کی کوششوں کو مضبوط بنا رہے ہیں۔
اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ آئیں پاکستان کی خوبصورت جنگلی حیات کی بہتری کے لیے مل کر کام کریں اور عالمی برادری کے ایک فرض شناس رکن کے طور پر اپنی ذمے داری پوری کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: شہباز شریف نے جنگلی حیات کہا کہ
پڑھیں:
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔