بحرالکاہل کے سمندری طوفان میں تین دن سے پھنسے لیتھُوینین مہم جو کو بچا لیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, March 2025 GMT
سڈنی: آسٹریلوی جنگی جہاز نے لیتھُوینیا کے مہم جو آریمَس موکُس کو بچا لیا، جو بحرالکاہل میں اکیلے کشتی چلاتے ہوئے تین دن تک خطرناک سمندری طوفان میں پھنسے رہے۔
44 سالہ آریمَس موکُس امریکی شہر سان ڈیاگو سے آسٹریلیا کے برسبین تک کا طویل سمندری سفر کر رہے تھے، جب وہ طاقتور سائیکلون الفریڈ کی زد میں آ گئے۔
طوفانی ہواؤں اور شدید لہروں کی وجہ سے ان کی کشتی بری طرح متاثر ہوئی اور وہ کوئنز لینڈ کے مشرق میں تقریباً 460 میل دور پھنس گئے۔
جمعہ کے روز، جب 50 میل فی گھنٹہ کی تیز ہواؤں نے حالات مزید خراب کر دیے، تو موکُس نے ایمرجنسی بیکن فعال کر دیا۔ آسٹریلوی میری ٹائم سیفٹی اتھارٹی نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایک طیارہ روانہ کیا، جس نے ہفتے کے روز ان سے پہلا رابطہ کیا۔
ریسکیو ٹیم کے مطابق، موکُس جسمانی طور پر کمزور ہو چکے تھے، لیکن ان کا حوصلہ بلند تھا۔ کشتی کو شدید نقصان پہنچا، اور صرف دو چپو اور چند ذاتی اشیاء ہی بچائی جا سکیں۔
آسٹریلوی جنگی جہاز HMAS Choules کو موکُس کو بچانے کے لیے بھیجا گیا۔ انہیں بحری جہاز پر لے جاکر طبی معائنے کے لیے سڈنی منتقل کیا جا رہا ہے۔
موکُس نے اکتوبر میں 7,500 میل کا یہ تاریخی سفر شروع کیا تھا، اور وہ ان چند افراد میں شامل ہونا چاہتے تھے جو اکیلے بحرالکاہل عبور کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ حالانکہ طوفان نے ان کی مہم کو روک دیا، لیکن ان کا عزم اور بہادری انہیں عالمی مہم جوؤں میں نمایاں مقام دلا چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بلوچستان: رواں ماہ بارشوں سے 8 افراد جاں بحق، 41 گھروں کو نقصان
---فائل فوٹوصوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی بلوچستان نے بارشوں کے دوران ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی۔
رپورٹ کے مطابق یکم جون سے اب تک بارشوں، آسمانی بجلی گرنے اور دیگر حادثات کے نتیجے میں 8 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 4 بچے بھی شامل ہیں جبکہ 13 بچوں اور 2 خواتین سمیت 16 افراد زخمی ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق ضلع کوہلو میں آسمانی بجلی اور دیوار گرنے سے 1 خاتون سمیت 2 افراد جان سے گئے۔
خضدار میں آسمانی بجلی گرنے اور چھت گرنے کے واقعات میں 1 بچے سمیت 2 افراد جاں بحق ہوئے۔
ژوب میں آسمانی بجلی اور چھتیں گرنے سے 3 بچوں سمیت 4 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔
بلوچستان بھر میں بارشوں اور سیلابی ریلوں سے 41 گھروں کو نقصان پہنچا۔
خضدار، ژوب، ہرنائی اور بارکھان میں 17 گھر مکمل طور پر تباہ ہو گئے جبکہ 24 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا۔