Al Qamar Online:
2026-07-24@05:36:15 GMT

صدر ٹرمپ نے یوکرین کے لیے امریکی امداد روک دی

اشاعت کی تاریخ: 4th, March 2025 GMT

صدر ٹرمپ نے یوکرین کے لیے امریکی امداد روک دی

ویب ڈیسک _ وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کو دی جانے والی امداد روک دی ہے۔

امریکی حکومت کے ایک سینئر عہدے دار نےنام ظاہر کیے بغیر وائس آف امریکہ کو پیر کی شب ایک ای میل میں بتایا ہےکہ صدر ٹرمپ یوکرین کے معاملے پر واضح رائے رکھتے ہیں اور ان کی توجہ امن پر ہے۔

عہدیدار کے مطابق یوکرین کو دی جانے والی امداد روک رہے ہیں اور جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یہ کسی حل میں معاون ثابت ہو۔

اس سے قبل پیر کو صدر ٹرمپ نے یوکرین کے ساتھ نایاب معدنیات کے لیے معاہدے کو امریکہ کی یوکرین کے لیے حمایت جاری رکھنے کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس معاملے پر منگل کو کانگریس کے مشترکہ اجلاس میں اعلان کریں گے۔

پیر کو ہی صدر زیلنسکی نے کہا تھا کہ ان کا ملک امریکہ کے ساتھ نایاب معدنیات پر معاہدے کے لیے تیار ہے اور انہیں یقین ہے کہ وہ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات بحال کر سکتے ہیں۔

صدر زیلنسکی نے کہا تھا "یوکرین کی ناکامی صرف (روس کے صدر ولادیمیر) پوٹن کی کامیابی نہیں ہے۔ یہ یورپ کی ناکامی ہے۔ یہ امریکہ کی ناکامی ہے۔ میرے خیال سے ہم سب اس بات میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ پوٹن کو جیتنے کا موقع نہ دیا جائے۔”




گزشتہ ہفتے صدر زیلنسکی کے دورۂ واشنگٹن کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان معاہدے کا امکان تھا۔ تاہم صدر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس سے ہونے والی زیلنسکی کی ملاقات میں تلخی کی وجہ سے بات آگے نہیں بڑھ سکی تھی۔

صدر ٹرمپ یوکرین میں جنگ ختم کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ لیکن یوکرین کے صدر زیلنسکی نے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ ٹرمپ اس تنازع کو ان شرائط پر حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو کیف کے مقابلے میں ماسکو کے زیادہ حق میں ہیں۔

صدر ٹرمپ نے پیر کو مزید واضح کیا ہے کہ اگر یوکرین اپنی بقا چاہتا ہے تو زیلنسکی کو ایک معاہدہ کرنا ہوگا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ "یہ بہت جلدی کیا جا سکتا ہے۔ اب شاید کوئی شخص معاہدہ نہیں کرنا چاہتا اور اگر کوئی شخص معاہدہ نہیں کرنا چاہتا تو میرے خیال میں وہ شخص زیادہ عرصہ نہیں رہ پائے گا۔ اُس شخص کی بات زیادہ عرصے تک نہیں سنی جائے گی۔ کیوں کہ مجھے یقین ہے کہ روس معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یوکرین کے لوگ یقینی طور پر معاہدہ چاہتے ہیں۔ انہوں نے سب سے زیادہ تکلیف اٹھائی ہے۔”

اس سے قبل ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے زیلنسکی کے اس اندازے پر کہ یوکرین میں روس کی جنگ کا خاتمہ "ابھی بہت دور ہے۔” پر تنقید کرتے ہوئے اسے "بدترین بیان” قرار دیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ "امریکہ اسے زیادہ دیر برداشت نہیں کرے گا!”

جمعے کو وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ اور زیلنسکی کی ملاقات میں ہونے والی تکرار کے بعد زیلنسکی نے اپنے یورپی اتحادیوں سے بھی ملاقات کی تھی۔




لندن میں ہونے والی ملاقات میں برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے امن فوجی دستوں کی پیشکش کو دہراتے ہوئے یوکرین کے لیے پانچ ہزار فضائی دفاعی میزائلز کے لیے دو ارب ڈالر کا اعلان کیا تھا۔

کیئر اسٹامر نے پارلیمنٹ سے خطاب میں کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو برطانیہ ایک اہم کردار ادا کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ درست ہے کہ یورپ اپنے برِاعظم میں امن کی حمایت کے لیے بھاری بوجھ اٹھائے۔ لیکن اس کی کامیابی کے لیے اس کوشش کو امریکہ کی مضبوط حمایت بھی حاصل ہونی چاہیے۔

اس رپورٹ کے لیے کم لوئس نے معاونت کی ہے۔ اسٹوری میں بعض معلومات اے پی/اے ایف پی/رائٹرز سے لی گئی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: صدر زیلنسکی زیلنسکی نے یوکرین کے رہے ہیں نے کہا کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل