کینسر میں مبتلا سندھی لوک گلوکارہ کو سندھ حکومت کی جانب سے امدادی چیک جاری
اشاعت کی تاریخ: 5th, March 2025 GMT
سندھی موسیقی کے لیے اپنی آدھی زندگی وقف کرنے والی نامور سندھی لوک گلوکارہ اور موسیقار ثمینہ کنول گلے کے کینسر میں مبتلا ہوگئیں۔ کنول کا پھول کہلانے والی لوک گلوگارہ کراچی کے نجی اسپتال میں زیر علاج ہیں۔
گلوکارہ ثمینہ کنول شدید بیمار ہیں اور علاج کے لیے مالی مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔ صوبائی وزیر ثقافت و سیاحت سید ذوالفقار علی شاہ نے ان کی علالت کا نوٹس لیا اور فوری مدد کے لیے ایک لاکھ روپے کا چیک جاری کیا۔
ترجمان کے مطابق، ثمینہ کنول کے لیے محکمہ ثقافت کی جانب سے سالانہ وظیفہ بھی مقرر ہے اور اب تک انہیں 16 لاکھ 60 ہزار روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔
معروف گلوکارہ نے اپنی زندگی میں خوبصورت آواز اور دلکش گانوں سے لوگوں کے دل موئے، متعدد سندھی ٹی وی چینلز، پی ٹی وی، اور ریڈیو پاکستان کے لیے بنیادی طور پر سندھی اور بلوچی زبانوں میں گانے گائے اور اہم مقام حاصل کیا۔ ریڈیو پاکستان میں انہوں نے سچل سرمست کی شاعری ریکارڈ کی۔ ان کے مشہور گانوں میں مہندی لگاندی، جبل ماتر جور، ادیر کانگ قاصد، آدی کنج ونجی، منہ کہا دلبر تہی جانا، متلب جا سب رشتا، حیا حیاتی میتھری دادی شامل ہیں۔
1960 سے 1970 کی دہائی میں انہوں نے معروف سندھی گلوکار سجاد یوسف، استاد برکت فقیر، اویس جمن، اللہ ڈنو جونیجو، اور اللہ ڈنو خاصیلی کے ساتھ گایا۔ روایتی طور پر شادی کی تقریبات اور خوشی کے مواقع پر آج بھی ان کے گائے جانے والے سہرہ اورلڈا گائے جاتے ہیں
یہ بھی پڑھیں: 2050 تک دنیا بھر میں چھاتی کے کینسر سے ہونے والی اموات 68 فیصد ہوجائیں گی ، ڈبلیو ایچ او انتباہ
انہوں نے فلم انڈسڑی میں اپنی آواز کا جادہ جگایا۔ جس میں پارو چانڈیو، پارو، فیصلو ضمیر جو، دھرتی مہینجی ماں، ہمت اور لکھو جیسی فلمیں شامل ہیں۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں شاہ لطیف ایوارڈ اور لال شہباز ایوارڈ سمیت متعدد ایوارڈز ملے۔
ڈاکٹروں نے ثمینہ کو گانے اور ضرورت سے زیادہ بات کرنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے اور صرف قریبی افراد سے ملنے کی اجازت دی ہے۔ان کے دوستوں اور قریبی ساتھیوں نے ان کی صحت یابی کے لیے دعاؤں کی درخواست کی ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ وہ جلد صحت یاب ہو کر دوبارہ اپنی خوبصورت آواز سے لوگوں کے دلوں کو چھو سکیں گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سندھ حکومت سندھی لوک گلوکارہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سندھ حکومت کے لیے
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا بڑا ریلیف، گھر کی مرمت اور توسیع کے لیے 10 لاکھ روپے تک بلاسود قرض کا اعلان
لاہور: اپنی چھت محفوظ چھت پروگرام 2026 کے تحت پنجاب حکومت نے ایسے شہریوں کے لیے خوشخبری سنائی ہے جو اپنے گھروں کی مرمت، مضبوطی یا توسیع کرنا چاہتے ہیں۔ اس منصوبے کے ذریعے اہل درخواست گزاروں کو 5 لاکھ سے 10 لاکھ روپے تک بلاسود قرض فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ بغیر سود کے اپنے گھر کی ضروری تعمیراتی ضروریات پوری کر سکیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کا مقصد کم اور متوسط آمدن رکھنے والے خاندانوں کو بہتر رہائشی سہولیات فراہم کرنا اور گھروں کی محفوظ تعمیر و مرمت میں مالی مدد دینا ہے۔
دو مختلف کیٹیگریز میں قرض فراہم کیا جائے گا
اس اسکیم کے تحت قرضوں کی فراہمی کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
پہلی کیٹیگری ان افراد کے لیے مختص ہے جو اپنے موجودہ گھر کی چھت کی مرمت، بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی یا ضروری تعمیراتی کام کروانا چاہتے ہیں۔ ایسے درخواست گزار 5 لاکھ روپے تک بلاسود قرض حاصل کر سکیں گے، جس کی واپسی 9 سال کے دوران آسان ماہانہ اقساط میں ہوگی۔ اس کی متوقع ماہانہ قسط تقریباً 4 ہزار 700 روپے ہوگی۔
دوسری کیٹیگری ان شہریوں کے لیے رکھی گئی ہے جو اپنے گھر میں توسیع، جیسے دوسری منزل یا اضافی کمروں کی تعمیر، کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں 10 لاکھ روپے تک بلاسود قرض دیا جائے گا، جسے بھی 9 سال میں واپس کرنا ہوگا۔ اس قرض کی متوقع ماہانہ قسط تقریباً 9 ہزار 300 روپے ہوگی۔
درخواست کیسے دیں؟
اپنی چھت محفوظ چھت پروگرام 2026 کے لیے درخواست دینے کے خواہشمند افراد پنجاب حکومت کے مخصوص آن لائن پورٹل کے ذریعے رجسٹریشن کر سکتے ہیں۔ درخواست جمع کراتے وقت شناختی اور دیگر ضروری دستاویزات فراہم کرنا لازمی ہوگا۔
وہ افراد جو انٹرنیٹ کے ذریعے درخواست نہیں دے سکتے، ان کے لیے متبادل سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔ ایسے شہری اپنی درخواست متعلقہ ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر یا پنجاب ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ایجنسی کے دفاتر میں جمع کرا سکتے ہیں۔
حکومت نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ درخواست جمع کرانے سے پہلے اپنی تمام معلومات اور دستاویزات مکمل کر لیں تاکہ درخواست کی جانچ کے عمل میں کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے۔