کوئٹہ، گیس لیکج دھماکوں کے واقعات میں ایک بار پھر اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, March 2025 GMT
گزشتہ تین روز کے دوران گیس لیکج کے باعث دو گھروں میں دھماکے ہوئے ہیں۔ جس میں مجموعی طور پر آٹھ افراد زخمی اور دو افراد جان کی بازی ہار گئے۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں گیس لیکج کے باعث دھماکوں کے واقعات میں ایک بار پھر اضافہ ہو گیا ہے۔ گزشتہ تین روز کے دوران گیس لیکج کے باعث دو گھروں میں دھماکے ہوئے ہیں۔ جس میں مجموعی طور پر آٹھ افراد زخمی اور دو افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔ آج کوئٹہ کے علاقے جوائنٹ روڈ پر واقع گھر میں گیس لیکج کے باعث دھماکہ ہوا۔ جس میں خاتون سمیت تین افراد زخمی ہو گئے۔ پولیس کے مطابق دھماکہ رات کے وقت ہوا، جب متاثرین سو رہے تھے۔ دھماکے کے باعث گھر کی چھت گر گئی اور دیواروں کو شدید نقصان پہنچا۔ جس کے باعث گھر میں موجود 1 خاتوں سمیت 3 افراد زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد علاقے کے افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت ملبہ ہٹایا اور زخمیوں کو ریسکیو کرکے ایمبولینس کے ذریعے مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا۔ اس سے قبل پشتون آباد میں بھی گیس لیکج کے باعث دھماکہ ہوا تھا۔ واضح رہے کہ سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے کوئٹہ میں گیس لوڈشیڈنگ کے دوران بعض صارفین کی بے احتیاطی کو مذکورہ واقعات کی وجوہات قرار دی جا رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گیس لیکج کے باعث افراد زخمی
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔