اسلام آباد:

وزیراعظم شہباز شریف نے ایس ایم ایز میں ورکس فورس کی تربیت لازمی قرار دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) میں عالمی معیار کی ورک فورس بھرتی کی جائے اور مارکیٹ کی سطح پر تنخواہیں مقرر کی جائیں۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائز ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہوا جہاں شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے فروغ کے حوالے سے حکومت ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہی ہے۔

وزیراعظم نے سمیڈا میں مارکیٹ سے نئی ہنر مند افرادی قوت بھرتی کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ شفاف طریقہ کار اپناتے ہوئے سمیڈا میں بین الاقوامی معیار کی ورک فورس کو  بھرتی کیا جائے جن کی تنخواہ مارکیٹ ریٹس کے مطابق ہو، ایس ایم ای شعبے کے لیے لیبر کی پیشہ ورانہ تربیت انتہائی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ سمیڈا کا ہماری دیہی معیشت کی بڑھوتری میں اہم کردار ہے، تمام دیہی آبادی بشمول  دیہی خواتین کو سمیڈا کے بلا سود قرض پروگرام سے مستفید کرنے کے لیے لائحہ عمل بنایا جائے۔

وزیراعظم نے وفاقی سطح پر پیشہ ورانہ تربیت کے تمام اداروں کو ایک ادارے میں ضم کرنے کی ہدایت کی۔

اجلاس کو سمیڈا میں جاری اصلاحات پر بریفنگ بھی دی گئی اور بتایا گیا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر مائیکرو انٹرپرائزز کو ایس ایم ای سیکٹر کا حصہ بنا دیا گیا اور اس حوالے سے جامع پالیسی بنائی جارہی ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر سمیڈا بورڈ میں نجی شعبے کی نمائندگی بڑھائی جا رہی ہے، سمیڈا میں افرادی قوت کو اسکلز ٹریننگ اور جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے کے حوالے سے حکمت عملی بھی ترتیب دی جا رہی ہے۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ سمیڈا کے پورٹ فولیو کو مزید مؤثر اور وسیع کرنے کے حوالے سے لائحہ ترتیب دیا جا رہا ہے اور وزیراعظم کی ہدایت پر وزارت تجارت اور سمیڈا برآمدات کے حوالے سے متعلقہ کمپنیوں کی نشان دہی کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں اور سمیڈا میں ایک مستعد پرفارمینس مینجمنٹ فریم ورک تشکیل دیا جائے گا۔

مزید بتایا گیا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر ایس ایم ای کے شعبے کے حوالے سے سمیڈا نے 28 سیمینارز اور تربیتی پروگرام منعقد کیے جن میں 953 افراد نے شرکت کی، ایس ایم ای شعبے کے لیے فنانشل لٹریسی پروگرام شروع کیا جا رہا ہے، جس کے لیے ماہرین کی بھرتی کا کام مکمل کر لیا گیا ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ایس ایم ای شعبے کی برآمدات بڑھانے کے حوالے سے ایکسپورٹ اسسٹینس پروگرام شروع کیا جا رہا ہے، ایس ایم ای سیکٹر کی سب-کنٹریکٹنگ کے حوالے سے قانونی لائحہ عمل تیار کیا جائے گا، جس کے لیے ماہرین کی بھرتی کا عمل جلد شروع کیا جا رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وزیراعظم کی ہدایت پر کے حوالے سے ایس ایم ای سمیڈا میں جا رہا ہے کیا جا کے لیے

پڑھیں:

امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور

امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی

قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔

یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔

تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔

مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔

Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.

This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP

— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026

اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔

مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ

صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز

متعلقہ مضامین

  • چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خاں کا امریکہ کی معروف یونیورسٹیوں کا دورہ
  • متنازع اے این ایف بھرتی اشتہار کی معطلی کی درخواست پر عدالت کا تحریری حکم نامہ جاری
  •  بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس