ایلون مسک اور امریکی وزیرِ خارجہ کے درمیان اختلافات شدید ہو گئے
اشاعت کی تاریخ: 8th, March 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر ایلون مسک اور امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کےدرمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق کابینہ کے اجلاس میں صدر ٹرمپ کی موجودگی میں ایلون مسک نے مارکو روبیو پر کڑی تنقید کی۔
ایلون مسک نے کہا کہ آپ اسٹاف کم کرنے میں ناکام رہے ہیں، آپ نے کسی کو نہیں نکالا سوائے میرے شعبے ڈوج کے ایک اہلکار کو۔
اس پر مارکو روبیو نے جواب دیا کہ ایلون مسک سچ نہیں بول رہے اور پوچھا محکمۂ خارجہ کے 1500 ملازمین نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لی ہے اور طنز کیا کہ کیا انہیں واپس بلا کر نوکری سے نکال کر دکھاؤں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس موقع پر صدر ٹرمپ کی بر وقت مداخلت کام کر گئی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اسٹاف رکھنے سے متعلق حتمی اختیار ایلون مسک نہیں وزراء کا ہے، مسک کا ڈوج ادارہ صرف ایڈوائزری کردار ادا کرے گا۔
امریکی صدر کی اس بات پر ایلون مسک مطمئن دکھائی دیے۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایلون مسک
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔