اسلام آباد ایئرپورٹ پر بارسلونا، شارجہ اور دبئی کے مسافروں سے منشیات برآمد
اشاعت کی تاریخ: 10th, March 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )ایئرپورٹس سکیورٹی فورس کے عملے نے اسلام آباد ایئر پورٹ پر کارروائیاں کرتے ہوئے مسافروں سے حشیش، ہیروئن اور کرسٹل آئس برآمد کر لیں۔
نجی ٹی وی جیو نیوز نے حکام کے حوالے سے بتایا کہ اے ایس ایف کے عملے نے اسلام آباد سے دبئی کے مسافر اصغر علی شاہ کی جرابوں میں منشیات کی موجودگی کی نشاندہی کی اور جسمانی تلاشی پر جرابوں سے 312 گرام حشیش برآمد کی۔
اسلام آباد سے براستہ دوحہ بارسلونا کی پرواز پر سفر کررہے ایک مسافر محمد عباس انجم کے سامان سے منشیات برآمد کی گئی جو مسافر نے اپنے بیگ میں مہارت سے چھپا رکھی تھی تاہم مسافر کے سامان کی دستی تلاشی پر 5.
تیسری کارروائی میں اسلام آباد سے شارجہ کی پرواز پر سفر کر رہے ایک مسافر عرفت اللہ کے سامان سے منشیات برآمد کی گئی جو مسافر نے اپنے بیگ کی تہہ میں نہایت مہارت سے چھپا رکھی تھی تاہم اے ایس ایف کے پیشہ ورانہ مہارت کے حامل عملے نے مسافر کے سامان سے 2.282 کلو گرام کرسٹل آئس (ہیروئن) برآمد کرکے سمگلنگ کی کوشش ناکام بنادی۔
ملزمان کو ابتدائی تفتیش کے بعد مزید قانونی کارروائی کے لئے برآمد شدہ منشیات کے ساتھ اے این ایف حکام کے حوالے کردیا گیا ہے۔
صدر آصف زرداری کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب، اپوزیشن کا شور شرابہ، شدیدنعرے بازی
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: اسلام آباد کے سامان برآمد کی
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔