Express News:
2026-07-24@02:03:45 GMT

امریکا اور ایران میں 45 سال کشیدگی رہی ہے، کامران بخاری

اشاعت کی تاریخ: 11th, March 2025 GMT

لاہور:

رہنما مسلم لیگ (ن) خرم دستگیر کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جو سیاسی تاریخ ہے اس میں پارلیمان بڑی واضح وجوہات کی بنا پر سب سے کمزور ستون ہے ہمارے آئین کا۔ 

ایکسپریس نیوز کے پروگرام اسٹیٹ کرافٹ میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ حالیہ سالوں میں آپ کو تو معلوم ہے کہ جوڈیشری نے بھی جن کو سیاسی جماعتوں بشمول میری جماعت کے ہم نے امپاور کیا وہ بھی ایک طاقتور حلیف بن کر سامنے آ گئے ہیں۔

لیکن پارلیمان بطور ادارہ ایگزیکٹو اگرچہ پارلیمان سے ہی نکلتی ہے لیکن اس کے علاوہ پارلیمان خود جو ہے اس پہ تو بہت کام ہونا ہے، ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ میں اپنی ذاتی دے رہا ہوں جو فرق ہے وہ حکومت کو دور کرنا چاہیے۔ 

تجزیہ کار ڈاکٹر کامران بخاری نے کہا کہ ایران کی اس وقت جو اندرونی اور بیرونی صورت حال ہے خاص طور پر ان کی جو مالی پوزیشن ہے وہ ان کی بارگینگ پاور کو کمزور کرتی ہے۔

جہاں تک بیانات کا تعلق ہے ظاہر ہے کوئی بھی فریق یہ نہیں کہے گا کہ ہم آپ کی شرائط پر راضی ہیں،45 سال کا ایک عرصہ ہے جس میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی رہی ہے، خاص طور پر اس انتظامیہ کے ساتھ تو بہت زیادہ کشیدگی رہی ہے کیونکہ اس نے 2015 والا معاہدہ ختم کر دیا ہے، تو وقت لگے گا دیکھتے ہیں کہ آگے چل کہ کیا حالات سامنے آتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔

انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی