صائم ایوب کی انجری سے متعلق اہم پیشرفت سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 11th, March 2025 GMT
لاہور:
پاکستان کے اوپننگ بیٹر صائم ایوب نے انجری سے بحالی کا عمل شروع کر دیا ہے اور اب جم میں ورزش کرتے نظر آ رہے ہیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں صائم ایوب کو ہلکی پھلکی ورزشیں کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
اوپنر جنوری میں جنوبی افریقا کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کے پہلے دن دائیں ٹخنے کی انجری سے دوچار ہوگئے تھے، جس کی وجہ سے انھیں انٹرنیشنل کرکٹ سے دور ہونا پڑا اور اسی وجہ سے وہ آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی 2025 میں شرکت سے بھی محروم رہے۔
صائم نیوزی لینڈ کے خلاف پاکستان کی آئندہ وائٹ بال سیریز کے لیے بھی منتخب نہیں ہو سکے۔
پی سی بی نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ صائم ایوب اور فخر زمان کو میڈیکل بنیادوں پر ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ اوپنرز فخر زمان اور صائم ایوب کو طبی مشاورت پر کسی بھی فارمیٹ کے لیے منتخب نہیں کیا گیا۔
مزید بتایا گیا کہ فخر زمان کو آئی سی سی چیمپئینز ٹرافی 2025 میں نیوزی لینڈ کے خلاف میچ کے دوران بائیں مسل میں کھچاؤ آیا جبکہ صائم ایوب کیپ ٹاؤن ٹیسٹ میں دائیں ٹخنے کی انجری کے باعث بحالی کے عمل سے گزر رہے ہیں۔
تاہم پی سی بی کا کہنا ہے کہ دونوں کھلاڑی مکمل فٹنس حاصل کر لیں گے اور ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ 10 کے لیے دستیاب ہوں گے، جو 11 اپریل 2025 سے شروع ہو گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: صائم ایوب
پڑھیں:
وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔
سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزاماتبدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔
تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرارطالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔
اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میںرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔
بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویررپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔
اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز