یوکرینی صدر نے تلخ کلامی پر ٹرمپ سے معافی مانگ لی،مندوب کا دعوی
اشاعت کی تاریخ: 11th, March 2025 GMT
یوکرینی صدر نے تلخ کلامی پر ٹرمپ سے معافی مانگ لی،مندوب کا دعوی WhatsAppFacebookTwitter 0 11 March, 2025 سب نیوز
نیویارک (آئی پی ایس )امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی مندوب اسٹیو وٹکوف نے دعوی کیا ہے کہ یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے اوول آفس میں تلخ کلامی پر ٹرمپ سے معافی مانگ لی۔امریکی صدر کے خصوصی مندوب اسٹیو وٹکوف نے کہا ہے کہ یوکرین کے صدرزیلنسکی نے ڈونلڈ ٹرمپ کو خط بھیج کر اوول آفس واقعہ پر معافی مانگ لی ہے۔
وائٹ ہاس میں ہوئے واقعہ کے بعد امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے کہا تھا کہ زیلنسکی کو ہوش میں آنا پڑے گا،وہ شکر گزاری کے ساتھ مذاکرات کی میز پر نہ آئیں تو یوکرین کی قیادت کوئی اور کرے۔رپورٹ کے مطابق صدر زیلنسکی کی جانب سے امریکی صدر کے نام مبینہ اس خط کے بعد یہ بھی بتایا گیا ہیکہ امریکا کے صدرٹرمپ کے خصوصی مندوب اسٹیو وٹکوف ماسکو کا دورہ کریں گے جہاں وہ روس کے صدر پیوٹن سے ملاقات کریں گے۔
تاہم ابھی اس کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔واضح رہے کہ گزشتہ دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرینی صدر زیلنسکی کی ملاقات جھگڑے کی صورت اختیار کر گئی تھی جس کے بعد ٹرمپ نے یوکرینی صدر کو وائٹ ہاس سے بھیج کر کہا کہ زیلنسکی امن کیلئے تیار نہیں، جب وہ امن کیلئے تیار ہوں تو وہ واپس آسکتے ہیں۔ واقعہ کے بعد اپنے پہلے بیان میں یوکرین کے صدر زیلنسکی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے تلخ کلامی پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا تھا۔یوکرینی صدر کا کہنا تھا کہ وائٹ ہاس میں جوکچھ ہوا وہ اچھا نہیں ہوا، اگرممکن ہو بھی جائے تو بھی وائٹ ہاس واپس نہیں جاں گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: معافی مانگ لی تلخ کلامی پر یوکرینی صدر
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔