Daily Ausaf:
2026-06-02@23:19:21 GMT

پونم پانڈے: متنازعہ شہرت رکھنے والی بالی ووڈ اداکارہ

اشاعت کی تاریخ: 11th, March 2025 GMT

ممبئی (شوبز ڈیسک) بالی ووڈ اداکارہ پونم پانڈے نے 2013 میں فلم ’نشا‘ سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ اپنی پہلی فلم سے ہی ہٹ ہونے کے باوجود، انہیں انڈسٹری میں زیادہ کام نہیں ملا اور وہ تنازعات میں گھری رہیں۔ وہ آخری بار فلم ’کریجکس‘ کے پروموشنل ویڈیو اور آئٹم نمبر میں نظر آئی تھیں۔

پونم پانڈے نے اپنے ڈیبیو کے بعد کئی ہندی اور علاقائی فلموں میں کام کیا۔ وہ مختلف ریئلٹی شوز میں بھی حصہ لے چکی ہیں، جن میں ’خطروں کے کھلاڑی 4‘ اور کنگنا رناوت کا ’لاک اپ‘ شامل ہیں۔ حال ہی میں، وہ ریئلٹی ڈیٹنگ شو ’کنک 2‘ کی میزبانی کر رہی ہیں۔

اداکاری اور ماڈلنگ کے علاوہ، پونم پانڈے ایک کامیاب مواد تخلیق کار کے طور پر بھی جانی جاتی ہیں۔ اگرچہ ان کے پاس فلموں اور ٹی وی شوز کی زیادہ تعداد نہیں ہے، لیکن وہ مختلف ذرائع سے اچھی خاصی آمدنی حاصل کرتی ہیں۔ 2024 تک، ان کی مجموعی مالیت 85 کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہے، جبکہ 2020 میں ان کی دولت تقریباً 52 کروڑ روپے تھی۔

پونم پانڈے نے ’نشا‘، ’مالینی اینڈ کمپنی‘، ’دی جرنی آف کرما‘ اور ’محبت زہر ہے‘ جیسی فلموں میں کام کیا ہے۔ 2013 سے لے کر اب تک انہوں نے بمشکل 10 فلمیں کی ہیں۔ 2017 میں، انہوں نے اپنی ‘پونم پانڈے ایپ’ لانچ کی، جس پر گوگل نے مبینہ طور پر پابندی لگا دی تھی، کیونکہ اس پر ایڈلٹ مواد دستیاب تھا۔ اس اقدام پر انہیں کافی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔

پونم پانڈے ایک انٹرنیٹ سنسنی بن چکی ہیں۔ انسٹاگرام پر ان کے 38 لاکھ سے زیادہ فالوورز ہیں اور وہ پروموشنل پوسٹس، برانڈ کولیبریشن اور انڈورسمنٹ سے لاکھوں کماتی ہیں۔ ممبئی کے باندرہ میں ان کا ایک کثیر منزلہ پرتعیش مکان بھی ہے۔
مزیدپڑھیں:بچوں نے اژدھا کو ہی کودنے والی رسّی بنا لیا، ویڈیو وائرل

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

پڑھیں:

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔

سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔

9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔

نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں