جعفر ایکسپریس حملہ، 80 یرغمال مسافروں کو رہا کروا لیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, March 2025 GMT
کوئٹہ ( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 11 مارچ 2025ء ) جعفر ایکسپریس حملہ، 80 یرغمال مسافروں کو رہا کروا لیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق بلوچستان میں دہشت گردوں کی جانب سے جعفر ایکسپریس پر کیے جانے والے حملے کے بعد سیکورٹی فورسز کا آپریشن جاری ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق دہشت گردوں کیخلاف گھیرا تنگ کر لیا گیا ہے، جبکہ 80 یرغمال مسافروں کو رہا کروا لیا گیا۔
بازیاب ہونے والوں میں 43 مرد، 26 خواتین اور 11 بچے شامل ہیں، سیکورٹی فورسز کی جانب سے تمام یرغمال مسافروں کو بازیاب کروانے کی کوششیں جاری ہیں۔ دوسری جانب ترجمان بلوچستان حکومت کا کہنا ہے کہ جعفرایکسپریس پر حملہ دہشت گردی ہے، واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند کے مطابق کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر گڈالر اور پیرو کنری کے درمیان شدید فائرنگ کی اطلاعات ہیں، واقعے کے بعد سبی ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے اور ایمبولینسز بھی جائے وقوعہ کی جانب روانہ کردی گئی ہیں، تاہم پہاڑی اور دشوار گزار علاقہ ہونے کے باعث جائے وقوعہ تک رسائی میں مشکلات پیش آررہی ہیں۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ محکمہ ریلوے کی جانب سے امدادی ٹرین جائے وقوعہ پر روانہ کردی گئی ہے، سکیورٹی فورسز مذکورہ علاقے کی جانب روانہ ہیں، واقعے کی نوعیت اور ممکنہ دہشت گردی کے پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق واقعہ دہشت گردی کا شاخسانہ ہو سکتا ہے جس کی تحقیقات جاری ہیں، حکومت بلوچستان کی جانب سے ہنگامی اقدامات کی ہدایت کردی گئی ہے جس کے لیے تمام ادارے متحرک ہیں، عوام سے پرامن رہنے اور افواہوں پر کان نہ دھرنے کی اپیل ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ جعفر ایکسپریس ٹرین صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے پشاور جا رہی تھی کہ اس دوران دہشت گردوں کی جانب سے بولان کے علاقے پیروکنری کے علاقے میں مسافر ٹرین پر فائرنگ کی گئی، کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفرایکسپریس جیسے ہی بولان کے علاقے آب گم کے مقام پر پہنچی تو دہشت گردوں کی جانب سے اچانک مسافر ٹرین پر حملہ کردیا گیا اور شدید فائرنگ شروع کردی، دہشت گردوں کی فائرنگ کے نتیجے میں ٹرین ڈرائیور زخمی ہوگیا، دیگر متعدد افراد کے بھی زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جب کہ لیویز ذرائع اور ریلوے پولیس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ جہاں حملہ ہوا ریل وہیں روک دی گئی، ٹرین میں کم از کم 600 سے 700 مسافر سوار ہیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے یرغمال مسافروں کو جعفر ایکسپریس دہشت گردوں کی کی جانب سے کے مطابق لیا گیا
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔