مصطفٰی عامر کیس : گتھی پھر الجھ گئی، جامعہ کراچی نے مقتول کے نشہ نہ کرنےکے دعووں کی تردید کردی
اشاعت کی تاریخ: 11th, March 2025 GMT
کراچی:
کراچی کے علاقے ڈیفنس سے معروف مصطفٰی عامر قتل کیس کی ایک گتھی پھر الجھ گئی، جامعہ کراچی کے انڈسٹریل اینالیٹیکل سینٹر نے مصطفیٰ عامر کے کسی نشہ آور شے کے استعمال نہ کرنے کے دعووں کی تردید کردی۔
ذرائع ابلاغ یا سوشل میڈیا پر سندھ پولیس سے حاصل کی گئی جامعہ کراچی کے انڈسٹریل اینالیٹکل سینٹر کی جس رپورٹ کی بنیاد پر یہ دعوی کیا جارہا ہے کہ "مصطفیٰ عامر کی لاش سے لیے گئے نمونوں سے کسی نشہ و خواب آور یا زہریلی چیز کے استعمال کے ثبوت نہیں ملے ہیں"خود جامعہ کراچی کے انڈسٹریل اینالیٹیکل سینٹر کے ریسرچ ذرائع میڈیا کے اس دعوی کی سختی سے تردید کررہے ہیں۔
انڈسٹریل اینالیٹیکل سینٹر کے سائنسدانوں کا یہ کہنا یے کہ پولیس کی جانب سے مصطفی عامر کی لاش کے جو اجزا انھیں کیمیائی تجزیے کے لیے فراہم کیے گئے تھے وہ اس قدر جلے ہوئے تھے کہ ان سے سائنسی بنیادوں پر کچھ بھی نتیجہ اخذ کرنا ممکن ہی نہیں تھا، کیونکہ مصطفی عامر کی لاش کو جلائے جانے کے سبب اس کے جسم کے اندرونی اعضا ( جگر اورپھپیھڑے) اندر سے بھی جل چکے تھے اور ان کا سائنسی تجزیہ ممکن نہیں تھا۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ لہذا انڈسٹریل اینالیٹیکل سینٹر نے یہ دعوی ہی نہیں کیا کہ مصطفی عامر کی قتل سے قبل نشے آور یا زہریلی چیز کا استعمال کرایا گیا ہے یا نہیں کرایا گیا۔
سائنسدانوں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مزید بتایا کہ ذرائع ابلاغ پر جو رپورٹ گردش کررہی یے اس رپورٹ کی محض دوسری سطر پڑھی جارہی ہے جبکہ اس رپورٹ کی پہلی سطر میں واضح لکھا ہے "اجزا مکمل جلے ہوئے تھے" لہذا مکمل جلے ہوئے اجزا کا سائنسی تجزیہ ممکن ہی نہیں ہے۔
فرانزک سے متعلق ایک ماہر نے بتایا کہ ڈی این اے کے لیے لیبارٹری میں انھیں پولیس کی جانب سے دانت کا نمونہ دیا گیا تھا اس کے pulp یا گودے کے نمونے سے ڈی این اے کیا گیا جو فیملی کے نمونوں سے میچ کرگیا جس کی بنیاد پر یہ دعوی کیا گیا کہ یہ لاش مصطفی عامر کی ہے۔
واضح رہے کہ مصطفی عامر کی قبر کشائی 21 فروری کو ایدھی قبرستان مواچھ گوٹھ میں ہوئی تھی اور ماہرین نے اس کی لاش سے نمونے حاصل کیے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مصطفی عامر کی جامعہ کراچی کی لاش
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔