جعفر ایکسپریس پر حملہ کرنے والے مزید 3 دہشتگرد ہلاک، جہنم واصل دہشتگردوں کی تعداد 16 ہو گئی
اشاعت کی تاریخ: 11th, March 2025 GMT
سٹی42: جعفر ایکسپریس پر حملہ میں ملوث دہشتگردوں کے صفایا کے لئے پاکستان آرمی کے کمانڈوز کا آپریشن جاری ہے۔ اب تک 16 دہشتگردوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے اور 104 یرغمالی مسافروں کو بازیاب کروا لیا گیا ہے۔
سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ اب تک سیکیورٹی فورسز نے 104 مسافروں کو دہشت گردوں سے باحفاظت باز یاب کروا لیا ہے۔
بازیاب کروائے جانے والوں میں 58 مرد، 31 عورتیں اور 15 بچے شامل ہیں۔
جعفر ایکسپریس حملہ ؛ نہتے شہریوں اور مسافروں پر حملے غیر اِنسانی اور مذموم عمل ہے؛ صدر مملکت
اب تک 16 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا جا چکا ہے۔
17 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا جا چکا ہے۔
سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ دہشت گرد اپنے بیرون ملک ہینڈلرز سے بذریعہ سیٹلائٹ فون رابطے میں ہیں۔
سیکیورٹی فورسز کے جوان چھوٹی ٹولیوں میں تقسیم دہشت گردوں کے ارد گرد گھیرا تنگ کر رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حال ہی میں بازیاب کروائے گئے مسافروں کی فوری ضروریات پوری کرنے کے بعد انہیں کوئٹہ روانہ کیا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے 80 مسافروں کو کوئٹہ روانہ کیا گیا تھا۔
جعفر ایکسپریس پر حملہ: ملک دشمن سوشل میڈیا اکاؤنٹس گمراہ کن، جھوٹے پروپیگنڈے میں مصروف
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: جعفر ایکسپریس کیا جا
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔