پاک امریکا تعلقات میں نیا موڑ آیا ہے جس سے فائدہ اٹھانا چاہیے، ڈاکٹر ماریہ سلطان
اشاعت کی تاریخ: 12th, March 2025 GMT
ساؤتھ ایشین اسٹریٹجک اسٹیبلٹی انسٹیٹیوٹ کی چیئر پرسن اور ماہر امور خارجہ ڈاکٹر ماریہ سلطان کا کہنا ہے کہ پاک امریکا حالیہ تعلقات میں جدت آئی ہے اور یہ پاکستان کے لیے ایک موقع ہے اور یہ اب ہم پر ہے کہ ہم کس طرح اس سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر ماریہ سلطان نے کہا کہ پہلی دفعہ امریکی انتظامیہ نے پاکستان کا شکریہ ادا کر کے یہ عندیہ دیا ہے کہ پاکستان مسئلے کا حل بھی بن سکتا ہے جبکہ بائیڈن انتظامیہ کے نزدیک پاکستان خود ایک مسئلہ تھا۔
یہ بھی پڑھیں امریکا پاکستان کے نیوکلیئر نظام کی حفاظت سے مطمئن
واضح رہے کہ حال ہی میں 2021 ایبی گیٹ حملے میں امریکا کو مطلوب ملزم شریف اللہ عرف جعفر کو پاکستانی سیکیورٹی اداروں نے گرفتار کر کے امریکا کے حوالے کیا تو امریکی صدر نے کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی تعریف کی۔ اس سے عالمی طور پر ایک ایسا منظر نامہ سامنے آیا جیسے پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات اور خاص طور پر دفاعی تعاون کے معاملے میں ایک نیا موڑ آیا ہے۔ اس سے قبل ہم نے دیکھا کہ امریکا اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اسپوکس پرسن پاکستان کے انتخابی عمل اور پاکستان میں جمہوریت پر بھی تبصرے کرتے رہے جسے پاکستانی دفتر خارجہ نے مسترد کیا اوراس کے بعد پاکستان کے میزائل پروگرام پر عالمی پابندیاں بھی لگائی گئیں۔
دوسری طرف پاکستان میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصبِ صدارت سنبھالنے سے بڑی اُمیدیں وابستہ تھیں۔ اور ہم نے دیکھا کہ امریکا میں لابنگ کے ذریعے سے پاکستان کا منفی چہرہ سامنے لانے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ لیکن 6 مارچ کو صدر ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کا شکریہ ادا کیا جانا پاک امریکا تعلقات کی بہتری کا اشارہ دیتا ہے۔
اس حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے ماہر امور خارجہ ڈاکٹر ماریہ سلطان نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان ملزمان کی حوالگی (ایکسٹراڈیشن) کا کوئی معاہدہ تو نہیں لیکن امریکا اور افغانستان کے درمیان یہ معاہدہ ہے اور کابل ایبی گیٹ حملے کا ملزم داعش کا لیڈر شریف اللہ ایک افغان شہری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے جس بین الاقوامی قانون کے تحت شریف اللہ کو امریکا کے حوالے کیا اس کے پیچھے سلامتی کونسل کی قراردادیں 1373 اور 1267 ہیں۔ پاکستان نے شریف اللہ کی حوالگی کے لیے دہشتگردی کے خلاف اقوام متحدہ کا فریم ورک استعمال کیا ہے جس کے مطابق ان قراردادوں پر دستخط کرنے والے ممالک بین الاقوامی طور پر قرار دیے گئے دہشتگردوں کو پناہ فراہم نہیں کر سکتے۔
ڈاکٹر ماریہ سلطان نے کہا کہ بنیادی طور پر دوحہ معاہدے میں یہ کہا گیا تھا افغان سرزمین دوسرے ملکوں کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی تو اسی تناظر میں پاک امریکا فوجی تعاون آگے بڑھنے میں مدد ملی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ریپبلیکن جماعت کے ساتھ دیرینہ تعلقات رہے ہیں اور پاکستان یہی چاہتا ہے کہ پاکستان کے تحفظات کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔
پاکستان کے تحفظات کیا ہیں؟ڈاکٹر ماریہ سلطان نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف یہی رہا ہے کہ امریکا نے جس طرح سے افغانستان سے انخلا کیا اور جدید امریکی ہتھیار جو وہاں رہ گئے وہ ٹھیک نہیں ہوا اور صدر ٹرمپ نے بھی اپنی تقریر میں یہی بات کی۔ پاکستان یہی چاہتا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی دہشتگردی کا مرکز نہ بنے اور ہم یہاں پاکستان کی سرزمین میں کسی دہشتگرد کو پناہ دینے کو تیار نہیں۔
کیا پاک امریکا تعلق امریکا بھارت تعلقات کو متاثر کر سکتا ہے؟اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر ماریہ سلطان نے کہا کہ بھارت کا امریکا کے ساتھ تزویراتی معاہدہ ہے اور بھارت امریکا کا تزویراتی شراکت دار ہے۔ پاک امریکا دفاعی تعاون مضبوط ہونے سے بھارت پر زیادہ اثر نہیں پڑے گا لیکن ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ بھارت اور امریکا کے درمیان جو ’بیکا کم کاسا ایس ٹی اے ون‘ جیسے معاہدے ہیں، ان معاہدوں کے تحت بھارت پر کچھ وضاحتیں لازم ہو گئی تھیں جو وہ بائیڈن انتظامیہ کے تحت نہیں کرتا رہا۔ اب ٹرمپ انتظامیہ بھارت سے کہے گی کہ وہ ’میک اِن انڈیا‘ تحت امریکا سے ٹیکنالوجی بھی خریدیں اور امریکی دفاعی صنعت کو وہ اسپیس بھی دیں جو ان معاہدوں کے تحت انہیں دینی تھی۔ یہ چیلنج بھارت کے لیے ضرور آئے گا۔
صدر ٹرمپ دو طرفہ تعلقات کو اہمیت دیتے ہیںڈاکٹر ماریہ سلطان نے کہا کہ صدر ٹرمپ کثیرالجہتی کی بجائے دو طرفہ تعلقات کو اہمیت دیتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ آپ ان کے لیے کیا کر رہے ہیں۔ اگر آپ امریکا کی اندرونی سیاست کو دیکھتے ہیں تو صدر ٹرمپ کا فوکس یہی نظر آ رہا ہے کہ وہ امریکا کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ بطور صدر امریکا وہ نئی جنگوں کے لیے اپنے صدارتی اختیارات استعمال کر سکتے تھے لیکن اس کے برعکس امریکا ماضی میں جہاں جہاں دوسرے ملکوں میں جنگوں میں ملوث رہا صدر ٹرمپ وہاں سے انخلا چاہتے ہیں، ماضی عراق، شام، پاکستان کے لوگوں سے جو وعدے کیے گئے تھے کہ جو کوئی امریکا یا سی آئی اے کو مدد فراہم کرے گا انہیں ویزے دیے جائیں گے تو امریکا نے اب وہ مراعات ختم کی ہیں۔
پاکستان کس طرح سے موجودہ صورتحال سے فائدہ اُٹھا سکتا ہے؟ڈاکٹر ماریہ سلطان نے کہا کہ صدر ٹرمپ کا فوکس امریکا کی تجارت کو آگے لے کر جانا ہے اور اگر پاکستان کے ساتھ کوئی تجارتی معاہدات ہوتے ہیں تو یہ پاکستان اور امریکا دونوں کے لیے خوش آئند ہوگا۔ ہمارے لیے چیلنج یہ ہو گا کہ ہم امریکا میں اپنے کوٹہ بیسڈ سسٹم میں وسعت لے کر آئیں۔
اس کے ساتھ ساتھ ہمیں افغانستان کے اندر رہ جانے والے امریکی ہتھیاروں کے حوالے سے بات چیت کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ پاکستانی بچوں کے امریکا میں تعلیم حاصل کرنے کے امکانات بھی روشن ہوئے ہیں۔
’ٹرمپ انتظامیہ سوشل انجینیئرنگ پر یقین نہیں رکھتی‘ڈاکٹر ماریہ سلطان نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے برخلاف ڈیموکریٹس سوشل انجینیئرنگ پر یقین رکھتے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ نے دنیا بھر کے ممالک میں 700 ارب ڈالر سوشل انجینیئرنگ میں صرف کیے ہیں۔ ڈیموکریٹس یہ سمجھتے ہیں کہ اگر امریکی مفادات کو آگے لے کر جانا ہے تو اُس کے لیے ہمیں مختلف ممالک کے اندر مقامی سطح کی مزاحمت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن صدر ٹرمپ یہ سمجھتے ہیں کہ ماضی میں سی آئی اے نے سوشل انجینیئرنگ کے حوالے سے اگر ایسے کام کیے ہیں تو یہ کسی ریاست کا کام نہیں ہے۔ پہلے اقدام کے طور پر اُنہوں نے ایسے تمام تارکین وطن جو شام، عراق یا افغانستان میں امریکہ کے لیے کام کرتے رہے ہیں ان کے ویزوں پر پابندی لگائی ہے اور انہوں نے کہا ہے کہ امریکا آنا ہے تو تعلیم اور سرمایہ کاری کے لیے آئیں۔
ڈاکٹر ماریہ سلطان نے کہا کہ اس سے قبل کیری لوگر برمن ایکٹ کے تحت کہا گیا کہ اگر پاکستان اور افغانستان کے اندر امریکا کی شراکت داری کو بڑھانا ہے تو اُس کے لیے امریکا پاکستان کے اندر 22 شعبوں میں سرمایہ کاری کرے گا۔ یہ پیسے پاکستانی حکومت کو نہیں دیے جائیں گے بلکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ذریعے سے یہ پیسے یہاں مختلف افراد کو دیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں امریکی قومی سلامتی مشیر کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، دہشتگردی کے خلاف اقدامات پر صدر ٹرمپ کی جانب سے شکریہ
انہوں نے کہا کہ اسی کیری لوگر ایکٹ کے تحت جارج سورس کو فنڈنگ کی گئی جو یہاں لاہور میں رہتے بھی رہے اور اسی ایکٹ کے تحت پاکستان کو 36 ملین ڈالر دیے گئے جبکہ آپ کو ملے صرف 11 ملین ڈالر، 24 ملین ڈالر کا حساب ہی نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ جب ایسے معاملات پر جواب طلبی کر رہے ہیں تو اس سے بہت ساری اور چیزیں بھی کھلیں گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews افغان دہشتگردی گرفتار امریکی صدر پاک امریکا تعلقات ڈونلڈ ٹرمپ شہباز شریف وزیراعظم پاکستان وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغان دہشتگردی گرفتار امریکی صدر پاک امریکا تعلقات ڈونلڈ ٹرمپ شہباز شریف وزیراعظم پاکستان وی نیوز ٹرمپ انتظامیہ پاکستان اور پاکستان کا پاک امریکا سے پاکستان کہ پاکستان اور امریکا پاکستان کے امریکا کے شریف اللہ کہ امریکا کے درمیان ہے کہ پاک انہوں نے کے حوالے کے لیے ا کے اندر کے ساتھ رہے ہیں سکتا ہے ہے اور کے تحت ہیں تو
پڑھیں:
امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
اسکردو (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 02 جون 2026ء ) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اسکردو کے مین بازار میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابی مہم میں آپ کے پاس آیا تھا اور جی بی کی ہر تحصیل میں گیا اور پورے جی بی کا دورہ کیا اور اسی وقت سے کہہ سکتا ہوں کہ جتنا جی بی میں نے دیکھا ہے وہ کسی سیاستدان نے نہیں دیکھا۔ ساری جماعتوں کے دورے ملا کر بھی ہمارے دوروں کے مقابلے میں کم ہیں۔ ہمارا صرف سیاسی رشتہ نہیں بلکہ نسلوں کا ساتھ ہے۔ میں یہ مہم بھی گزشتہ انتخابی مہم کی طرح کرنا چاہتا تھا۔ گزشتہ انتخابات میں خوشی کو ماحول تھا لیکن اب ہم سب کے لئے غم کا ماحول ہے۔ ایران میں جو شہادتیں ہوئیں ہیں، بچیوں کو شہید کیا ہے یہ غم کا ماحول ہے۔(جاری ہے)
جس طرح رمضان میں آیتہ اللہ خامنئی کو ان کی نواسی کے شہید کیا گیا وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی امن پسند اور جنگ کے خلاف ہے۔ یہ کہانی ایران تک نہیں فلسطین اور لبنا ن میں بھی بے گنا ہ لوگوں شہید کیا گیا۔ فیلڈ مارشل امن کی جو کوشش کر رہے ہیں ہیں ہم سب دعاگو ہیں کہ یہ کوشش کامیاب ہو ۔ پوری مسلم دنیا اور دنیا بھر کے نوجوان اس جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اس جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بے تحاشہ بڑھ گئی ہے اس لئے ہم اس جنگ کو ختم ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی سیاست باقی جماعتوں سے مختلف ہے۔ ہم پسماندہ طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کو حقوق دیتے ہیں اور غریب کا سوچتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کی ترقی پسماندہ طبقے کی ترقی سے ہے۔ باقی جماعتیں امیروں کو مزید امیر بنانے کی پالیسی اختیار کرتے ہیں اور اسے نام ترقی کا دیا جاتا ہے۔ کسانوں، مزدوروں، نوجوانوں کی ترقی اصل ترقی ہے۔ قائد عوام شہید ذوالفقار بھٹو نے کسانوں کو زمین مہیا کی۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے لئے عوام کا نعرہ تھا “بینظیر آئے گی، روزگار لائے گی”۔ صدر زرداری نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں بی آئی ایس پی بنا کر روٹی، کپڑا اور مکان کو عملی شکل دی۔ بطور وزیرخارجہ مجھ سے دوسرے ممالک پوچھتے تھے کہ ہم بی آئی ایس پی کے ذریعے اپنے غریبوں کی بھی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ بدقسمتی اس ملک کی یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ایسی ہیں کہ وہ سوچتی ہیں کہ اپنے امیر دوستوں کے لئے مراعات کیسے دیں اور وہ بی آئی ایس پی کی غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بی آئی ایس پی کی مدد پورے ملک کے غریب عوام کو ملتی ہے۔ ماﺅوں کی دعاﺅں کی وجہ سے ان کی بی آئی ایس پی کوختم کرنے کی سازش ناکام ہوگی۔ وزیراعظم آنے والے بجٹ میں بی آئی ایس پی میں اضافے کا اعلان کریں گے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی نے ملک کی دفاعی صلاحیت مضبوط کی ہے۔ اس وقت پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے اور کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا۔ یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے تحفہ دیا ہے۔ وہ گڑھی خدا بخش سے پاکستان کا دفاع کر رہے ہیں۔ شہید بی بی نے میزائل ٹیکنالوجی دی کہ وہ اس بم کو لے کر دشمن تک پہنچ سکتے ہیں۔ آج پاکستان کا دفاع اسی وجہ سے ناقابل تسخیر ہے۔ اس کے بعد مشرف کا دور گزرا کہ جب دوسرے ممالک کو Bases بنانے کی اجازت دی گئی۔ صدر زرداری نے سلالہ واقعے کے بعد سارے Bases کو بند کیا۔ جب حال ہی میں مختلف ممالک میں بم دھماکے ہو رہے تھے تو میں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے بم اور شہید بی بی کا ذکر کروں گا تو صدر زرداری کو بھی خراج تحسین پیش کروں گا۔ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ہر لحاظ سے مضبوط ہو صرف پی پی پی ہی معاشی طور پر یہ کام کر سکتی ہے۔ یہ تین نسلوں کی جدوجہد ہے۔ شہید ذوالفقارعلی بھٹو نے سرداری نظام ختم کیا۔ FCR کا خاتمہ کیا۔ قائدعوام نے بلتستان کی سرزمین پر کھڑے ہو کر اعلان کیا تھا کہ گھاس کھائیں گے لیکن ایٹم بم بنائیں گے۔ گندم اور پٹرول پر سبسیڈی قائدعوام نے دی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ سب کچھ جدوجہد سے حاصل کیا۔ جی بی کو پہلے ناردرن ایریا کہتے تھے صدر زرداری نے جی بی کا نام دیا۔ اب ہم نے مل کر جدوجہد کرکے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کرنا ہے۔ ہمیں تین اصولوں حق حاکمیت ، حق ملکیت اور حق روزگار پر عمل کرنا ہوگا۔ یہ تب ہوگا جب اٹھارہویں ترمیم کے مطابق دیگر صوبوں کی طرح حقوق جی بی کو بھی ملیں۔آپ کے پہاڑوں کے نیچے جو وسائل ہیں ان پر حق جی بی کے عوام کا ہے۔ وسائل پر پہلا حق جی بی کے عوام ہے اور اگر یہ حق ملکیت مل جائے تو پاکستان کی ترقی ہوگی جس طرح تھر کے کوئلے سے پورا پاکستان مستفید ہو رہا ہے۔ شہید بی بی نوے کی دہائی میں یہ منصوبہ شروع کرنا چاہتی تھیں لیکن اس کے راستے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔ ہم نے یہ منصوبہ 2015 میں شروع کیا اور اس منصوبے کے سربراہ سندھ کے وزیراعلیٰ کو بنایا۔ اس منصوبے میں روزگار کا 80 فیصد تھر کے عوام کو دیا گیا۔ تھر کے منصوبے سے تھرکے عوام کو مفت بجلی دیتے ہیں۔ ہم نے تھر کے عوام کو تھر کول منصوبے میں ان کا شئیر دینا چاہا لیکن ان لوگوں نے پیسے لے لئے لیکن آپ کو اپنے وسائل میں شیئر لینا چاہیے۔ CPEC کا سب سے بڑا منصوبہ تھرکو ل کا ہے۔ جب آپ کو حق ملکیت ملے گا تو آپ وسائل کے حصہ دار ہوں گے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم ملازمتوں کے مواقع پیدا کریں لیکن دوسرے لوگ غریبوں کا روزگار چھینتے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ امیر کو اور امیر بنائیں گے تو وہ نوکریاں دیں گے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ ہماری سیاست عوام دوست اور غریب دوست ہے جبکہ دیگر لوگوں کی سیاست غریب دشمن اور امیردوست ہوتی ہے۔ اس لئے تیر پر مہر لگا کر غریب دوست حکومت بنائیں۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا میں جانتا ہوں کہ آپ کے ہاں بارشوں اور سیلاب سے بہت نقصان ہوتا ہے۔ سندھ میں بھی 2022 میں سیلاب آیا اور دو تہائی سندھ پانی کے نیچے چلا گیا۔ اس وقت سارے غریب لوگ مطالبہ کر رہے تھے کہ انہیں گھر بنا کر دئیے جائیں۔ یہ پاکستان کی پہلی حکومت جس نے غریب لوگوں کو گھر بنا کر دئیے۔ میں کسی صوبے سے نہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرتا ہوں اور 20 لاکھ گھر بنانے بنانے کا منصوبہ دنیا میں سب سے بڑا منصوبہ ہے اور یہ گھر موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر سکتے ہیں۔ خواتین کو ان گھروں کا مالک بنایا اور زمین کی یہ منتقلی قائد عوام کے بعد سب سے بڑا منصوبہ ہے کیونکہ یہ زمین بھی خواتین کے نام کر رہے ہیں۔ 7 جون کو تیر پر مہر لگائی تو اسی طرح جی بی کی خواتین کو بھی گھر بنا کر دیں گے۔ ہم غریب اور عوام دوست ہیں اسی لئے بی آئی ایس پی اور گھروں کا منصوبہ دیتے ہیں ۔ سندھ میں ہسپتال بنائے، سندھ کا این آئی سی وی ڈی، این آئی سی ایچ، ایس آئی یوٹی اور ڈاﺅ میڈیکل کالج سے لے کر گمبٹ تک دل ، گردے، کینسر اور جگر کا علاج پورے پاکستان کے عوام کو مفت مہیا کرتے ہیں۔ دیگر صوبے ہسپتالوں کی نجکاری کرتے ہیں تاکہ ان کے امیر دوستوں کو فائدہ ہو۔ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو علاج سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 7جون کو انشااللہ جی بی کے عوام باہر نکلیں گے اور تیر پر مہر لگاکر پیپلزپارٹی کی حکومت بنائیں گے تاکہ حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار، مفت علاج کے ادارے اور گھر بنانے کا منصوبہ شروع ہو سکے۔ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے جی بی کے عوام کی خدمت کریں گے اور آپ کو معاشی طور پر مضبوط کریں گے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں انہوں نے ڈاکٹر مبشر حسن کو ایک تحقیق کرنے کو کہا تھا جس سے 70 کی دہائی میں یہ بات سامنے آئی کہ جی بی میں ہم 50ہزار میگا واٹ بجلی بنا سکتے ہیں جو ہم بنا کر دکھائیں گے۔ یہ منصوبہ اسلام آباد میں کوئی بیوروکریٹ نہیں ہم اور آپ مل کر بنائیں گے اور اسلام آباد کو بجلی بیچیں گے۔ 7تاریخ کو اس صوبے کے عوام کو سوچنا ہے کہ آپس میں لڑ کر کسی اور کو فائدہ نہ پہنچائیں۔ پی پی پی کو بھاری اکثریت ملتی ہے تو ہم مسائل حل کر سکتے ہیں۔ ہم نے سکردو کو وزیراعلی اور گورنر دیا۔ یہ صرف مہدی شاہ کی عزت نہیں بلکہ سکردو کے عوام کی عزت ہے۔ اب میدان میں نئی نسل آگئی ہے اور آپ کے ووٹ اور ساتھ کی وجہ سے توقیر شاہ کو سکردو 1 سے جتوائیں گے۔ آپ سکردو 2 میں محمد علی شاہ کو ووٹ دیںسکردو 3 سے فدا محمد ناشاد کو جتوانا ہے۔ اسکردو4 میں راجہ ناصر علی خان کو منتخب کرنا ہے۔ خرمنگ کے اقبال حسین کو جتوانا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں شگر سے عمران ندیم کو نہیں جیتنے دیا گیا تھا لیکن اس مرتبہ انہیں جتوانا ہے اور گھانچے1 سے ڈاکٹر عاشق حسین کو منتخب کرنا ہے۔ گھانچے 2 میں میری امیدوار آمنہ انصاری ہیں اور گھانچے 3 میں انجینئر محمد اسماعیل ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ انجینئر محمد اسماعیل کے حلقے سے جی بی ہاﺅسنگ اینی شئیٹو شروع کروں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تمام امیدواروں سے ہاتھ کھڑے کروا کر وعدہ لیا کہ وہ منتخب ہوکر عوام کی خدمت کریں گے۔ انہوں نے عوام سے بھی وعدہ لیا کہ 7جون کو تیرپر مہر لگائیں تاکہ شہید قائد عوام اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کیا جا سکے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ آصفہ بی بی کو لے کر سکردو آئے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ جس طرح بلتستان کے عوام نے انہیں کبھی مایو س نہیں کیا اسی طرح بی بی آصفہ کو بھی مایوس نہیں کریں گے۔ خطاب کے آخر میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوام کے ساتھ مل کر پارٹی کے لئے نعرے لگوائے۔