فی الحال ہمارا کسی قسم کا کوئی بیک ڈور ڈائیلاگ نہیں چل رہا، بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
راولپنڈی:
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے واضح کیا ہے کہ فی الوقت ہمارا کسی قسم کا کوئی بیک ڈور ڈائیلاگ نہیں چل رہا اور ہمارا ڈائیلاگ کا کوئی سلسلہ آگے نہیں بڑھ سکا۔
اڈیالہ جیل کے قریب داہگل ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ میرا ہمیشہ موقف رہا ہے سیاسی جدوجہد میں سارے آپشنز کھلے ہونے چاہیے اور کوشش ہے اس وقت بھی مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھے، جن لوگوں سے بات چیت ہونی چاہیے کوشش ہے انہی سے بات ہو۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے مذاکرات سے بھی راہ فرار اختیار نہیں کیا بلکہ بانی نے ہمیشہ مذاکرات کا کہا ہے، بانی سے اسیران کے خط اور پارلیمانی پارٹی اجلاس میں ہونے والی گفتگو پر بات کروں گا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی نے حکومتی مذاکرات کی پیشکش کو ٹھکرا دیا تھا کیونکہ بانی کا موقف ہے اگر حکومت سنجیدہ ہے تو پہلے کوئی مثبت اقدامات ہونے چاہیے۔ بانی سے ملاقات ہوئی تو حکومت کی مذاکرات کی پیشکش پر بات کروں گا۔
انہوں ںے بتایا کہ وزیر اعظم نے پارلیمنٹ میں مصافحہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمیں بات کرنی چاہیے، وزیر اعظم نے کہا تھا آپ اسپیکر آفس کو یوٹیلائز کریں۔
ایک سوال کے جواب میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ ہمارا الائنس نہیں بن سکا لیکن راہیں جدا نہیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ایک ماہ بعد بانی سے ملاقات کے لیے آیا ہوں، بجٹ سیشن کی وجہ سے ملاقات نہیں ہو سکی اور آج بھی پولیس نے ناکے پر روکا ہوا ہے۔ بانی سے ملاقات کے نتیجے میں کوئی نہ کوئی حل نکل سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے واضع احکامات ہیں کہ ملاقاتوں میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے اس لیے ملاقاتوں میں رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیے۔ زیادہ لوگ ملیں گے تو اچھی اور دل جوئی والے پیغامات بھی باہر آئیں گے، بانی کا ہمیشہ قوم کے لیے اچھا پیغام ہوتا ہے۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے بانی اور بشریٰ بی بی کی فوری رہائی ہو، 700 دن سے زائد عرصہ ہوگیا لیکن بانی اور انکی اہلیہ جیل میں ہیں، اگر رہائی نہیں ہو رہی تو کم سے کم رسائی کا موقع دینا چاہیے۔ آگے بڑھنے کے لیے سختیاں نہیں ہونی چاہیے، جب رسائی ہوگی تو ہم ان سے ڈسکس کریں گے ہمیں کیا آفر ہے، ملاقات ہوگی تو اسیران کے خط پر بھی گفتگو ہوگی۔
دریں اثنا عمران خان سے ملاقات کے بعد انہوں نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ میری آج خان صاحب سے اڈیالہ جیل میں ایک ماہ کے بعد ملاقات ہوئی ہے، بہت سارے معاملات پہ میری ان سے بات چیت ہوئی ہے پارٹی امور پر بھی ہوئی ہے قانونی معاملات پہ بھی ہوئی ہے تحریک کے حوالے سے بھی ہوئی ہے۔
انہوں ںے کہا کہ جب آئسولیٹ کر دیا جائے اخبار نہ دیا جائے ملاقات کرنے کی اجازت نہ دی جائے تو بہت سارے معاملات زیر بحث ا جاتے ہیں، ملاقات کے دوران طویل گفتگو ہوئی ہے، بہت ساری اہم بات چیت ہوئی جو میں یہاں نہیں بتاسکتا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان بیرسٹر گوہر سے ملاقات ملاقات کے نے کہا کہ بات چیت ہوئی ہے سے بات
پڑھیں:
20 سال تک بیوی سے بات نہ کرنے والا شوہر، وجہ آپ کو حیران کر دے گی
جاپان (Japan)میں ایک شوہر نے 20 سال تک اپنی بیوی سے بات نہیں کی۔
جاپان سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے کی کہانی نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب سمیٹ لی ہے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ جاپان کے جزیرے ہوکائڈوسے تعلق رکھنے والے ایک 18 سالہ نوجوان نے ایک ٹیلی ویژن شو میں ایک غیر معمولی درخواست کی تھی اور ایک ایسے خاندانی مسئلے کے حل کے لیے مدد مانگی جو برسوں پرانا تھا۔
نوجوان میں بتایا کہ اس کے والدین تقریباً 20 سال تک ایک ساتھ رہے لیکن اس نے کبھی اپنے والدین کو آپس میں باقاعدہ گفتگو کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 2 دہائیوں تک شوہر اوکو کاتایاما اور ان کی اہلیہ یومی ایک ہی گھر میں رہے، تین بچوں کی پرورش کی اور ایک ساتھ کھانا کھایا لیکن اس کے باوجود ان کے درمیان شاذ و نادر ہی کوئی بامعنی بات چیت ہوئی۔
مزیدپڑھیں:تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ سے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی میزبانی واپس لے لی گئی
اس خاموشی کی وجہ کوئی تلخ جھگڑا یا بے وفائی نہیں تھی بلکہ شوہر اوکو کاتایاما نے اپنی اہلیہ سے بات کرنا اس لیے چھوڑ دیا تھا کیونکہ وہ بیوی کی بچوں پر زیادہ توجہ پر حسد محسوس کرتا تھا۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ جب بیوی بات کرنے کی کوشش کرتی تو اوکو کاتا یاما عام طور پر صرف سر ہلا کر یا کوئی بے ساختہ جواب دیتا۔
اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے جوڑے کے سب سے چھوٹے بیٹے نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام کے دوران اپنے والدین کے درمیان صلح کروانے میں مدد کی درخواست کی، جس کے بعد شو کی انتظامیہ نے جوڑے کی ملاقات کا انتظام اسی پارک میں کیا جہاں ماضی میں پہلی بار ملے تھے، جبکہ ان کے تینوں بچے کچھ فاصلے سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔
ملاقات کے دوران شوہر نے خاموشی توڑتے ہوئے اپنی اہلیہ سے کہا کہ “ہماری بات چیت ہوئے خاصا عرصہ گزر چکا ہے، تم بچوں کے معاملے میں بہت فکرمند رہتی تھیں، اب تک تم نے بہت مشکلات برداشت کی ہیں اور میں ہر اس چیز کے لیے شکر گزار ہوں”۔