دو قدم ساتھ چل کر چھوڑنے والا اپنا نقصان کریگا، قوم معاف نہیں کریگی، سلمان اکرم راجا
اشاعت کی تاریخ: 12th, March 2025 GMT
دو قدم ساتھ چل کر چھوڑنے والا اپنا نقصان کریگا، قوم معاف نہیں کریگی، سلمان اکرم راجا WhatsAppFacebookTwitter 0 12 March, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ دو قدم ہمارے ساتھ چل کر چھوڑنے والا خود اپنا نقصان کرے گا، قوم انہیں معاف نہیں کرے گی۔
جوڈیشل کمپلیکس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجا نے کہا کہ کل جو واقعہ اڈیالہ کے باہر ہوا یہ عام بات ہے، وہاں کوئی دوست موجود تھا، اس نے اس کو ریکارڈ کیا اور بات کو بڑا کیا ۔ نعیم حیدر پنجوتھا ہمارے اہم رکن ہیں اور انہوں نے پی ٹی اے ورکرز اور ان کے کیسز کے حوالے سے کافی کام کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی میں کوئی اختلاف نہیں ہے، یہ چھوٹی موٹی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔ ہمارا نظریہ ایک ہے، ہمارا لیڈر ایک ہے ، ہمارا مقصد ایک ہے، ہماری تحریک ایک ہے ۔ ہم سندھ میں جی ڈی اے کے پاس گئے، شاہد خاقان عباسی بھی ہمارے مقف کے ساتھ ہیں ۔
سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ کل جو بلوچستان میں واقعہ ہوا، اس کے بعد اب کوئی گنجائش نہیں ہے کہ ہم سب مل کر اکٹھے نہ بیٹھیں ۔ چاہے ہم اپوزیشن میں ہوں، حکومت کے لوگ ہوں یا مقتدرہ کے، سب کو اکٹھے بیٹھنا ہے۔ اس وقت ہم نے لوگوں کے دکھوں کا مداوا کرنا ہے، لوگوں کے زخم بھرنے ہیں ۔ ہمیں سب سیاسی اختلافات بھلا کر اس ملک کو اس مشکل سے نکالنا ہے ۔ آپ دیکھیں گے اس میں پی ٹی آئی اپنا بہت مثبت کردار ادا کرے گی ۔
پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ کل میری بانی سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے ہدایت دی ہے کہ ہم جے یو آئی سے بات چیت کو بڑھائیں ۔ ہم نے جمہوریت کے لیے، انسانی حقوق کے لیے ہاتھ بڑھایا ہے جو بھی ساتھ چلے گا ہم خوش آمدید کہیں گے ۔ جو کوئی سندھ، بلوچستان، پنجاب، جی بی اور دوسرے صوبوں کے حقوق کی بات کرے گا ہم ساتھ دیں گے۔ مجھے نہیں لگتا کہ کوئی ہمارے ساتھ چل کر آگے ہمیں چھوڑ دے گا ۔ اگر کوئی دو قدم چلنے کے بعد چھوڑ دے گا تو وہ اپنا نقصان کرے گا قوم اسے معاف نہیں کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سلمان اکرم راجا اپنا نقصان ساتھ چل کر معاف نہیں پی ٹی آئی ایک ہے
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔