Daily Mumtaz:
2026-06-02@22:22:16 GMT

حملے کیلئے افغان سرزمین استعمال ہوناباعث تشویش

اشاعت کی تاریخ: 13th, March 2025 GMT

حملے کیلئے افغان سرزمین استعمال ہوناباعث تشویش

اسلام آباد(طارق محمودسمیر)جعفرایکسپریس پر کالعدم تنظیم بی ایل اے کے دہشت گردوں کے حملے کے بعد سکیورٹی فورسزنے ایک کامیاب آپریشن کے نتیجے میں 200قریب قیمتی جانوں کو بچالیاجب کہ اس دوران 30دہشت گردمارے گئے ہیں،اس واقعہ کی گونج پارلیمنٹ کے ایوانوں سے ہوتی ہوئی واشنگٹن اور بیجنگ تک جاپہنچی ہے،بیرونی مداخلت اور دہشت گردوں کی مدد کے نتیجے میں یہ واقعہ رونماہوا،بلوچستان کا مسئلہ آج کا نہیں سیاسی اختلاف رائے اورحقوق نہ ملنے کی باتیں 1960سے کی جاتی رہی ہیں لیکن اس طرح کے حالات پرویزمشرف کے دورکے بعد دوسری بار پیداہوئے ہیں،پرویزمشرف کے دورمیں جب نواب اکبربگٹی کا واقعہ پیش آیاتو بلوچستان کے اندرسے آوازیں اٹھیں جنہیں سیاسی انداز میں دبانے کے لیے پہلے پیپلزپارٹی کیدورحکومت میں آغاز حقوق بلوچستان پیکج کے علاوہ 18ویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو اہم آئینی،قانونی ومالیاتی اختیارات دیئے گئے ،پھر 2013میں جب نوازشریف اقتدار میں آئے تو انہوں نے بلوچستان میں مسلم لیگ ن کے بجائے قوم پرست رہنما ڈاکٹرعبدالمالک کو وزارت اعلیٰ دی جس کے 2016تک مثبت نتائج نکلے وہاں حالات میں کافی بہتری آئی اور اس وقت کے کورکمانڈرکوئٹہ ناصر جنجوعہ اور ڈاکٹرعبدالمالک حکومت کی کوششوں کے نتیجے میں بڑی تعداد میں کالعدم تنظیموں کے ارکان نے پہاڑوں سے اترکرہتھیارڈالے تھے اور قومی دھارے میں شامل ہونے کااعلان کیا،پھر اسی عرصے میں بھارتی ایجنٹ کلبھوشن یادیوکو گرفتارکیاگیااور ان کا نیٹ ورک پکڑاگیامگر2018کے بعد آہستہ آہستہ حالات خراب ہوناشروع ہوئے اور اب پھر ایک خطرناک نہج پرآگئے ہیں ،بلوچستان کے اندر نمائندہ حکومت نہ ہونے کی باتیں بھی کی جاتی ہیں ،بلوچستان میں جائز ،مضبوط اور مستقبل شناس سیاسی حکومت کی اشدضرورت ہے اور اس کے لیے مرکز میں حکمران جماعت ن لیگ اور صوبے کی حکمران جماعت پیپلزپارٹی کو آگے بڑھناہوگا ،دوسری جانب وزیراعظم شہبازشریف کو چاہئے تھاکہ فوری طور پر کوئٹہ کادورہ کرتے مگر ان کی دیگراہم مصروفیات کیباعث نائب وزیراعظم اسحاق ڈارنے کوئٹہ کااہم دورہ کیاجب کہ وزیراعظم نے وزیراعلیٰ سرفرازبگٹی سے ٹیلی فون پر بات کی اور اس کے بعد ایک ٹویٹ میں یہ کہاہیکہ جعفرایکسپریس پر ہونے والے گھناونے دہشت گردحملے کی وہ مذمت کرتے ہیں ایسی بزدلانہ کارروائیاں پاکستان میں امن کے عزم کو متزلزل نہیں کرسکتیں ،انہوں نے شہداء کے خاندانوں سے اظہار تعزیت کی ،جعفرایکسپر یس حملے میں یہ پہلوبھی سامنے آیاہیکہ حملہ آورافغانستان میں ماسٹرمائنڈسے رابطے میں تھے چنانچہ یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ بلوچستان میں افغان طالبان حکومت اور بھارت کے گٹھ جوڑسے دہشت گردی ہورہی ہے   بلوچستان میں بدامنی کے بڑھتے ہوئے واقعات اس لیے زیادہ تشویش کا باعث ہیں کیونکہ اس صوبے کو چین پاکستان اقتصادی راہداری کے حوالے سے مرکزی حیثیت حاصل ہے ، چنانچہ بلوچستان میں بدامنی میں اضافے کی وجہ بھی سی پیک ہی ہے ،اس منصوبے کے باعث بلوچستان میں بیرونی مداخلت تشویشناک حد تک بڑھ چکی ، پاکستان دشمن قوتیں مقامی سطح پر اپنے آلہ کاروں کے ذریعے سی پیک کو سبوتاعکرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں ، پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی اور استحکام کے لیے بلوچستان کی ترقی اور امن ناگزیر ہے ، ضرورت اس امرکی ہے کہ بلوچستان میں امن کے لیے فیصلہ کن اقدامات کئے جائیں، بلوچستان میں امن کیلیے سکیورٹی فورسز مسلسل قربانیاں دے رہی ہیں لیکن دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اس امرکی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ صوبے میں قیام امن کے لیے سکیورٹی پلان کا از سرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے،حالیہ واقعہ کے تناظر میں وزیراعظم کو سکیورٹی کمیٹی کا اجلاس بلاناچاہئے ، امن کے لیے سکیورٹی اقدامات اپنی جگہ ضروری ہیں لیکن اس حقیقت کا بھی ادراک کیا جانا چاہئے کہ مسئلے کا دیرپا حل اسی صورت ممکن ہے جب بلوچستان میں عسکریت پسندی کے اسباب کا خاتمہ بھی کیا جائے ۔

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: بلوچستان میں امن کے کے بعد اور اس کے لیے

پڑھیں:

والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے

سوشل میڈیا کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ’میٹا‘ نے دنیا بھر میں انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر استعمال کرنے والے کم عمر صارفین کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سخت ترین پابندیوں کا باقاعدہ اطلاق کر دیا ہے۔ ان نئی پالیسیوں کا مقصد نوجوانوں کو نامناسب مواد اور آن لائن ہراسانی سے بچانا ہے۔

دنیا بھر میں نئی سیٹنگز کا فوری اطلاق

کمپنی کی جانب سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر پر 13 سال سے زیادہ عمر کے ’ٹین ایج‘ اکاؤنٹس پر مواد کے حوالے سے نئی اور زیادہ سخت سیٹنگز لاگو کر دی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:میٹا نے واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام کے بامعاوضہ فیچرز متعارف کرا دیے

واضح رہے کہ ان سخت ترین سیکیورٹی فیچرز کو سب سے پہلے اکتوبر 2026 میں امریکا، آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا میں آزمائشی طور پر متعارف کرایا گیا تھا تاہم اب 2 جون سے اس کا دائرہ کار دنیا بھر کے تمام ممالک تک پھیلا دیا گیا ہے۔

نامناسب مواد اور سرچ رزلٹس پر مکمل بلاکنگ

نئی تبدیلیوں کے تحت اب کم عمر صارفین ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا مواد نہیں دیکھ سکیں گے اور نہ ہی انہیں فالو کر سکیں گے جو اکثر اور بیشتر غیر اخلاقی یا نامناسب مواد شیئر کرتے ہیں۔

میٹا کا کہنا ہے کہ ایسے تمام مشکوک اور غیر موزوں اکاؤنٹس کو 18 سال سے کم عمر صارفین کی تجاویز(ریکومینڈیشنز) اور تلاش کے نتائج (سرچ رزلٹس) میں مکمل طور پر بلاک کر دیا جائے گا تاکہ بچے ان تک پہنچ ہی نہ سکیں۔

الائس کمپنی کے ساتھ اشتراک اور سرچ پر پابندی

’میٹا‘  نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی مشہور عالمی تنظیم ’سیفٹی کمپنی الائس‘ کے ساتھ مل کر مستقبل میں بھی کم عمر صارفین سے متعلق نئے فیچرز کو تیار اور ٹیسٹ کرے گی۔

یاد رہے کہ اکتوبر میں جب انسٹاگرام پر اس سیٹنگ کا آغاز ہوا تھا، تو یہ واضح کیا گیا تھا کہ کم عمر صارفین کو مخصوص سرچ اصطلاحات، جیسے نشہ آور اشیا کے استعمال اور دیگر نقصان دہ موضوعات کو سرچ کرنے سے بھی سختی سے روک دیا جائے گا۔

’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ اور والدین کا کنٹرول

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کو محفوظ ماحول دینے کے لیے ’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ کا فیچر بھی متعارف کرایا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا

اس فیچر کے تحت اب والدین کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اپنے بچوں کو پلیٹ فارم پر کسی بھی تبصرے (کمنٹس) تک رسائی حاصل کرنے سے روک سکیں۔

یہاں تک کہ اس سیٹنگ کے فعال ہونے کے بعد کم عمر صارفین خود اپنی پوسٹس پر آنے والے کمنٹس کو بھی نہیں دیکھ سکیں گے، جس سے وہ کسی بھی قسم کی آن لائن ٹرولنگ یا منفی تبصروں سے محفوظ رہیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اشتراک الائس کمپنی انسٹاگرام بچوں بک پابندی سرچ سوشل میڈیا سیٹنگ عائد فیس فیس بک لمیٹڈ کانٹینٹ میٹا والدین

متعلقہ مضامین

  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی