Daily Mumtaz:
2026-07-24@04:06:27 GMT

حملے کیلئے افغان سرزمین استعمال ہوناباعث تشویش

اشاعت کی تاریخ: 13th, March 2025 GMT

حملے کیلئے افغان سرزمین استعمال ہوناباعث تشویش

اسلام آباد(طارق محمودسمیر)جعفرایکسپریس پر کالعدم تنظیم بی ایل اے کے دہشت گردوں کے حملے کے بعد سکیورٹی فورسزنے ایک کامیاب آپریشن کے نتیجے میں 200قریب قیمتی جانوں کو بچالیاجب کہ اس دوران 30دہشت گردمارے گئے ہیں،اس واقعہ کی گونج پارلیمنٹ کے ایوانوں سے ہوتی ہوئی واشنگٹن اور بیجنگ تک جاپہنچی ہے،بیرونی مداخلت اور دہشت گردوں کی مدد کے نتیجے میں یہ واقعہ رونماہوا،بلوچستان کا مسئلہ آج کا نہیں سیاسی اختلاف رائے اورحقوق نہ ملنے کی باتیں 1960سے کی جاتی رہی ہیں لیکن اس طرح کے حالات پرویزمشرف کے دورکے بعد دوسری بار پیداہوئے ہیں،پرویزمشرف کے دورمیں جب نواب اکبربگٹی کا واقعہ پیش آیاتو بلوچستان کے اندرسے آوازیں اٹھیں جنہیں سیاسی انداز میں دبانے کے لیے پہلے پیپلزپارٹی کیدورحکومت میں آغاز حقوق بلوچستان پیکج کے علاوہ 18ویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو اہم آئینی،قانونی ومالیاتی اختیارات دیئے گئے ،پھر 2013میں جب نوازشریف اقتدار میں آئے تو انہوں نے بلوچستان میں مسلم لیگ ن کے بجائے قوم پرست رہنما ڈاکٹرعبدالمالک کو وزارت اعلیٰ دی جس کے 2016تک مثبت نتائج نکلے وہاں حالات میں کافی بہتری آئی اور اس وقت کے کورکمانڈرکوئٹہ ناصر جنجوعہ اور ڈاکٹرعبدالمالک حکومت کی کوششوں کے نتیجے میں بڑی تعداد میں کالعدم تنظیموں کے ارکان نے پہاڑوں سے اترکرہتھیارڈالے تھے اور قومی دھارے میں شامل ہونے کااعلان کیا،پھر اسی عرصے میں بھارتی ایجنٹ کلبھوشن یادیوکو گرفتارکیاگیااور ان کا نیٹ ورک پکڑاگیامگر2018کے بعد آہستہ آہستہ حالات خراب ہوناشروع ہوئے اور اب پھر ایک خطرناک نہج پرآگئے ہیں ،بلوچستان کے اندر نمائندہ حکومت نہ ہونے کی باتیں بھی کی جاتی ہیں ،بلوچستان میں جائز ،مضبوط اور مستقبل شناس سیاسی حکومت کی اشدضرورت ہے اور اس کے لیے مرکز میں حکمران جماعت ن لیگ اور صوبے کی حکمران جماعت پیپلزپارٹی کو آگے بڑھناہوگا ،دوسری جانب وزیراعظم شہبازشریف کو چاہئے تھاکہ فوری طور پر کوئٹہ کادورہ کرتے مگر ان کی دیگراہم مصروفیات کیباعث نائب وزیراعظم اسحاق ڈارنے کوئٹہ کااہم دورہ کیاجب کہ وزیراعظم نے وزیراعلیٰ سرفرازبگٹی سے ٹیلی فون پر بات کی اور اس کے بعد ایک ٹویٹ میں یہ کہاہیکہ جعفرایکسپریس پر ہونے والے گھناونے دہشت گردحملے کی وہ مذمت کرتے ہیں ایسی بزدلانہ کارروائیاں پاکستان میں امن کے عزم کو متزلزل نہیں کرسکتیں ،انہوں نے شہداء کے خاندانوں سے اظہار تعزیت کی ،جعفرایکسپر یس حملے میں یہ پہلوبھی سامنے آیاہیکہ حملہ آورافغانستان میں ماسٹرمائنڈسے رابطے میں تھے چنانچہ یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ بلوچستان میں افغان طالبان حکومت اور بھارت کے گٹھ جوڑسے دہشت گردی ہورہی ہے   بلوچستان میں بدامنی کے بڑھتے ہوئے واقعات اس لیے زیادہ تشویش کا باعث ہیں کیونکہ اس صوبے کو چین پاکستان اقتصادی راہداری کے حوالے سے مرکزی حیثیت حاصل ہے ، چنانچہ بلوچستان میں بدامنی میں اضافے کی وجہ بھی سی پیک ہی ہے ،اس منصوبے کے باعث بلوچستان میں بیرونی مداخلت تشویشناک حد تک بڑھ چکی ، پاکستان دشمن قوتیں مقامی سطح پر اپنے آلہ کاروں کے ذریعے سی پیک کو سبوتاعکرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں ، پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی اور استحکام کے لیے بلوچستان کی ترقی اور امن ناگزیر ہے ، ضرورت اس امرکی ہے کہ بلوچستان میں امن کے لیے فیصلہ کن اقدامات کئے جائیں، بلوچستان میں امن کیلیے سکیورٹی فورسز مسلسل قربانیاں دے رہی ہیں لیکن دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اس امرکی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ صوبے میں قیام امن کے لیے سکیورٹی پلان کا از سرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے،حالیہ واقعہ کے تناظر میں وزیراعظم کو سکیورٹی کمیٹی کا اجلاس بلاناچاہئے ، امن کے لیے سکیورٹی اقدامات اپنی جگہ ضروری ہیں لیکن اس حقیقت کا بھی ادراک کیا جانا چاہئے کہ مسئلے کا دیرپا حل اسی صورت ممکن ہے جب بلوچستان میں عسکریت پسندی کے اسباب کا خاتمہ بھی کیا جائے ۔

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: بلوچستان میں امن کے کے بعد اور اس کے لیے

پڑھیں:

پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے۔

اسلام آباد میں انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے، یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی، جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

ان کا کہنا تھا کہ آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی، اس جہت نے اکیڈیمیا، انڈسٹری، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے، آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز 100 فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے۔ 

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا، معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شان دار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی شعبے میں شان دار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سیکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔

چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا، دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں، بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہیے، کسانوں کی حالت بہتر ہو، چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والی خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے، محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لیے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہیے۔

پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا

مزید :

متعلقہ مضامین

  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار