بانی پی ٹی آئی کیخلاف 9 مئی مقدمات، جے آئی ٹی کے سربراہ نے استعفیٰ دیدیا، وجہ بھی سامنے آ گئی
اشاعت کی تاریخ: 13th, March 2025 GMT
بانی پی ٹی آئی کے خلاف 9مئی کیسز کی جےآئی ٹی کے سربراہ ڈی آئی جی عمران کشور نے استعفیٰ دیدیا۔
ڈی آئی جی عمران کشور کے استعفیٰ کی کاپی اے آر وائی نیوز نے حاصل کر لی ہے جس میں انہوں نے مستعفی ہونے کی وجوہات بیان کی ہیں۔ ڈی آئی جی عمران کشور نے استعفیٰ میں لکھا کہ پولیس سروس آف پاکستان سے استعفیٰ دے رہا ہوں میں نے اپنے حلف کی پاسداری غیرمتزلزل عزم کے ساتھ کی اور کئی بار قیمت چکائی۔
متن میں انہوں لکھا کہ ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہوں جہاں میری مزید خدمات ممکن، تاریخ گواہ رہے کہ میں نے عزت کے ساتھ خدمات سرانجام دیں، میں خاموشی سے خدمت نہیں کروں گا، براہ کرم میرا استعفیٰ قبول کریں۔ اٹک جیل میں قید سابق وزیراعظم وچیئرمین پی ٹی آئی سے جے ٹی آئی نے 9 مئی واقعات سے منسلک دہشتگردی کے 6 مقدمات کی تفتیش کی اور ان سے کئی سوالات کیے۔
ذرائع نے اس تفتیش کے حوالے سے بتایا کہ جے آئی ٹی اراکین نے چیئرمین پی ٹی آئی سے سوال کیا کہ 9 مئی واقعات سے متعلق آپ کے اشتعال دلانے کے شواہد موجود ہیں جس پر چیئرمین پی ٹی آئی نے جواب دیا کہ میں گرفتار تھا اور کسی کو فون کر کے اشتعال نہیں دلایا۔ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی نے کہا کہ ایسی ویڈیوز اور کلپس ہیں جن میں مظاہرین آپ کا نام لیتے نظرآتے ہیں، جس پرسابق وزیر اعظم نے کہا کہ جلاؤ گھیراؤ میں میری پارٹی کے کارکن نہیں بلکہ کوئی اور افراد تھے۔
جے آئی ٹی نے پوچھا کہ آپ کے اسلم اقبال، حماد اظہر اور مراد سعید سے بھی رابطوں کے شواہد ہیں جس پر چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ رابطے کرنا کون سا جرم ہے، آپ کو جو بات کرنی ہے میرے وکیل سے کریں۔چیئرمین پی ٹی آئی اس جواب پر جے آئی ٹی نے کہا کہ ہم یہاں آپ سے تفتیش کرنے آئے ہیں وکیل کو عدالت میں بلائیے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: چیئرمین پی ٹی ا ئی جے ا ئی ٹی نے کہا کہ
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔