جعفر ایکسپریس آپریشن کی کامیابی پر اظہار تشکر، دہشت گرد نشان عبرت بن چکے: مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 14th, March 2025 GMT
لاہور (نوائے وقت رپورٹ) وزیراعلی مریم نواز شریف کے ویژن کے تحت’’سکول میل پروگرام‘‘ کامیابی سے جاری ہے۔ سکول میل پروگرام کے آغاز سے طلبہ میں غذائی کمی کے اثرات میں واضح کمی ہوئی۔ سکول میل پروگرام کے پہلے مرحلے میں ایک ارب 78 کروڑ روپے کی بچت کی گئی۔ آغاز کے چند ماہ میں ہی 55 ہزار سے زائد نئے طلبہ کی انرولمنٹ کا منفرد ریکارڈ قائم ہوا۔ مظفرگڑھ، راجن پور اور ڈی جی خان میں چار کروڑ ملک پیک سکولوں میں پہنچائے گئے۔ تینوں اضلاع کے طلبہ کو ساڑھے تین کروڑ سے زائد ملک پیک دے دیئے گئے۔ سکول میل پروگرام کے آغاز پر موجود طلبہ کی تعداد 3 لاکھ 61ہزار سے بڑھ کر 4لاکھ 16ہزار ہو گئی ہے۔ پروگرام میں شفافیت، مسابقتی ٹینڈرنگ سے بچت یقینی بنائی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پرموثر مانیٹرنگ اور مینجمنٹ سسٹم کا اطلاق کیا گیا ہے۔ مریم نواز نے جنوبی پنجاب کے دیگر دور دراز اضلاع میں سکول میل پروگرام کے لئے اقدامات کی ہدایت کی اور کہا کہ طلبہ کے لئے سارے وسائل حاضر ہیں۔ سکول میل پروگرام کا دائرہ کار بتدریج بڑھائے گے۔ علاوہ ازیں وزیراعلیٰ پنجاب نے جعفر ایکسپریس آپریشن کی کامیابی پر اظہار تشکر کیا اور سکیورٹی فورسز کو کامیاب آپریشن پرخراج تحسین پیش کیا۔ شہید ہونے والے جوانوں کیلئے حرفِ عقیدت کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ بے گناہ مسافروں اور معصوم عورتوں اور بچوں کو ڈھال بنانا بزدلی کی بدترین مثال ہے۔ جہنم واصل ہونے والے دہشت گرد نشان عبرت بن چکے ہیں۔ گردوں کے عالمی دن پر پیغام میں مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ گردوں کا عطیہ کرنے والے تمام افراد کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں۔ صحت مند زندگی کے لئے گردوں کی صحت کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔ پنجاب میں گردوں کے علاج کی بہترین اور مفت سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ نواز شریف کی جانب سے شروع کی گئی مفت ڈائیلسز کی سہولیات کو مزید بہتر کیا جائے گا۔ گردوں کے امراض کے مستند علاج کے لئے ٹرانسپلانٹ کارڈ شروع کیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔