اسلام آباد پولیس کیلئے اعزاز، آئی جی سید علی ناصر رضوی نیشنل پولیس فاونڈیشن پاکستان کے سربراہ مقرر
اشاعت کی تاریخ: 14th, March 2025 GMT
اسلام آباد پولیس کیلئے اعزاز، آئی جی سید علی ناصر رضوی نیشنل پولیس فاونڈیشن پاکستان کے سربراہ مقرر WhatsAppFacebookTwitter 0 14 March, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)اسلام آباد پولیس کیلئے اعزاز، آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی کو نیشنل پولیس فانڈیشن پاکستان کا بھی سربراہ مقرر کردیا گیا۔
ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق آئی جی اسلام آباد پولیس سید علی ناصر رضوی اسلام آباد پولیس کے ساتھ ساتھ نیشنل پولیس فاونڈیشن پاکستان کو بھی کمانڈ کریں گے۔سید علی ناصر رضوی نے باقاعدہ نیشنل پولیس فاونڈیشن کا بھی چارج سنبھال کر کام کا آغاز کردیا۔
سید علی ناصر رضوی اب پاکستان کے تمام پولیس ڈیپارٹمنٹس کی سپاہ اور ان کے خاندانوں کی ویلفئیر کے فرائض بھی سر انجام دیں گے ۔نیشنل پولیس فانڈیشن پاکستان شہدائے پولیس کے خاندانوں، غازیوں، پولیس جوانوں کی ویلفئیر کے لئے نئے پراجیکٹس متعارف کروائے گی۔
اس تعیناتی سے نیشنل پولیس فانڈیشن پاکستان میں نئے عہد کا آغاز ہوگا۔آئی جی اسلام آباد نے اسلام آباد پولیس میں جدید ٹیکنالوجی کے متعدد پراجیکٹس متعارف کروائے۔اب نیشنل پولیس فانڈیشن کو بھی نئی جدت کے ساتھ نئے دور کے تقاضوں کے سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سید علی ناصر رضوی اسلام آباد پولیس
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔