کے پی حکومت کا 9 مئی جوڈیشل کمیشن کے لئے ہائیکورٹ کو دوبارہ خط
اشاعت کی تاریخ: 15th, March 2025 GMT
پشاور:
کے پی حکومت نے ہائی کورٹ کو 9 مئی کے جوڈیشل کمیشن قیام کی یادہانی کے لئے خط ارسال کردیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخوا شاہ فیصل اتمانخیل نے بتایا کہ پشاور ہائیکورٹ کو 9 مئی جوڈیشل کمیشن کے حوالے سے یادہانی لیٹر بھیج دیا ہے، 27 جون 2024ء کو صوبائی کابینہ نے 9 مئی واقعات کی انکوائری کے لئے جوڈیشل کمیشن قیام کی منظوری دی۔
شاہ فیصل اتمانخیل نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن قیام کے لئے ہم نے ہائیکورٹ کو دو خطوط بھیجے، کئی ماہ ہوگئے ابھی تک ہائیکورٹ کی جانب سے ہمیں جوڈیشل کمیشن قیام کے حوالے سے کوئی ریسپانس نہیں ملا، پہلے خط پر ہائیکورٹ نے کہا کہ یہ مجاز اتھارٹی کی جانب سے نہیں آیا۔
ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ صوبائی حکومت نے دوسرا لیٹر بھیجا، ابھی تک اس پر بھی ہائیکورٹ کی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا، ہمیں ہائیکورٹ کے جواب کا انتظار ہے، ہم چاہتے ہیں کہ 9 مئی کے حوالے سے تمام حقائق عوام کے سامنے آجائے، ہائیکورٹ ہمیں کوئی جواب دیں تو اس کے بعد صوبائی حکومت آئندہ کا لائحہ عمل بنائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جوڈیشل کمیشن قیام کے لئے
پڑھیں:
20 سال تک بیوی سے بات نہ کرنے والا شوہر، وجہ آپ کو حیران کر دے گی
جاپان (Japan)میں ایک شوہر نے 20 سال تک اپنی بیوی سے بات نہیں کی۔
جاپان سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے کی کہانی نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب سمیٹ لی ہے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ جاپان کے جزیرے ہوکائڈوسے تعلق رکھنے والے ایک 18 سالہ نوجوان نے ایک ٹیلی ویژن شو میں ایک غیر معمولی درخواست کی تھی اور ایک ایسے خاندانی مسئلے کے حل کے لیے مدد مانگی جو برسوں پرانا تھا۔
نوجوان میں بتایا کہ اس کے والدین تقریباً 20 سال تک ایک ساتھ رہے لیکن اس نے کبھی اپنے والدین کو آپس میں باقاعدہ گفتگو کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 2 دہائیوں تک شوہر اوکو کاتایاما اور ان کی اہلیہ یومی ایک ہی گھر میں رہے، تین بچوں کی پرورش کی اور ایک ساتھ کھانا کھایا لیکن اس کے باوجود ان کے درمیان شاذ و نادر ہی کوئی بامعنی بات چیت ہوئی۔
مزیدپڑھیں:تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ سے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی میزبانی واپس لے لی گئی
اس خاموشی کی وجہ کوئی تلخ جھگڑا یا بے وفائی نہیں تھی بلکہ شوہر اوکو کاتایاما نے اپنی اہلیہ سے بات کرنا اس لیے چھوڑ دیا تھا کیونکہ وہ بیوی کی بچوں پر زیادہ توجہ پر حسد محسوس کرتا تھا۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ جب بیوی بات کرنے کی کوشش کرتی تو اوکو کاتا یاما عام طور پر صرف سر ہلا کر یا کوئی بے ساختہ جواب دیتا۔
اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے جوڑے کے سب سے چھوٹے بیٹے نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام کے دوران اپنے والدین کے درمیان صلح کروانے میں مدد کی درخواست کی، جس کے بعد شو کی انتظامیہ نے جوڑے کی ملاقات کا انتظام اسی پارک میں کیا جہاں ماضی میں پہلی بار ملے تھے، جبکہ ان کے تینوں بچے کچھ فاصلے سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔
ملاقات کے دوران شوہر نے خاموشی توڑتے ہوئے اپنی اہلیہ سے کہا کہ “ہماری بات چیت ہوئے خاصا عرصہ گزر چکا ہے، تم بچوں کے معاملے میں بہت فکرمند رہتی تھیں، اب تک تم نے بہت مشکلات برداشت کی ہیں اور میں ہر اس چیز کے لیے شکر گزار ہوں”۔