امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کا کہنا ہے کہ لگتا ہے پاکستانیوں کے امریکی سفر پر مکمل پابندی کا امکان ٹل گیا ، اب صرف ویزے کے اجرا کو محدود کیا جارہا ہے۔انہوں نے  پی ٹی آئی پر نام لیے بغیر طنز کیا کہ امریکا میں بیٹھ کر پاکستان میں انقلاب لانے والوں کو اس مسئلے پر توجہ دینی چاہیے۔ادھر سینئر سیاست دان مشاہد حسین سید نے مجوزہ فہرست کو امریکی حکومت کا سیاسی فیصلہ قرار دیا اور حکومتِ پاکستان کو مشورہ دیا کہ پابندیاں لگنے کی صورت میں امریکیوں پر جوابی پابندیاں عائد کی جائیں۔مشاہد حسین نے مزید کہا کہ بھارت ان 3 ملکوں میں شامل ہے ، جہاں سے سب سے زیادہ غیر قانونی مہاجرین امریکا آتے ہیں مگر بھارت کا نام مجوزہ فہرست میں شامل نہیں ہے۔اس کے علاوہ سابق سفیر ملیحہ لودھی نے کہا اُن کی معلومات کے مطابق پاکستانیوں پر سفری پابندیاں نہیں ہوں گی لیکن ویزے ملنے میں سختی ہوگی۔واضح رہے  کہ ٹرمپ انتظامیہ 43 ممالک کے شہریوں پر سفری پابندیوں کی تجاویز پر غور کر رہی ہے جس میں پاکستان کا نام بھی شامل ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا

قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹو

اقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔

اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔

بھارت دہشت گردی برآمد کرتا ہے، صائمہ سلیم

اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔

صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران، روس اور چین کے 130 تحقیقاتی و تعلیمی اداروں پر پابندی لگادی
  • پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا کردار واضح ہے، وزیراعظم
  • ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی