پاکستانیوں کے امریکی سفر پر مکمل پابندی کا خطرہ ٹل گیا، حسین حقانی کی نام لیے بغیر پی ٹی آئی پر تنقید
اشاعت کی تاریخ: 16th, March 2025 GMT
امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کا کہنا ہے کہ لگتا ہے پاکستانیوں کے امریکی سفر پر مکمل پابندی کا امکان ٹل گیا ، اب صرف ویزے کے اجرا کو محدود کیا جارہا ہے۔انہوں نے پی ٹی آئی پر نام لیے بغیر طنز کیا کہ امریکا میں بیٹھ کر پاکستان میں انقلاب لانے والوں کو اس مسئلے پر توجہ دینی چاہیے۔ادھر سینئر سیاست دان مشاہد حسین سید نے مجوزہ فہرست کو امریکی حکومت کا سیاسی فیصلہ قرار دیا اور حکومتِ پاکستان کو مشورہ دیا کہ پابندیاں لگنے کی صورت میں امریکیوں پر جوابی پابندیاں عائد کی جائیں۔مشاہد حسین نے مزید کہا کہ بھارت ان 3 ملکوں میں شامل ہے ، جہاں سے سب سے زیادہ غیر قانونی مہاجرین امریکا آتے ہیں مگر بھارت کا نام مجوزہ فہرست میں شامل نہیں ہے۔اس کے علاوہ سابق سفیر ملیحہ لودھی نے کہا اُن کی معلومات کے مطابق پاکستانیوں پر سفری پابندیاں نہیں ہوں گی لیکن ویزے ملنے میں سختی ہوگی۔واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ 43 ممالک کے شہریوں پر سفری پابندیوں کی تجاویز پر غور کر رہی ہے جس میں پاکستان کا نام بھی شامل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔