ٹرین حملہ سفاکانہ دہشتگردی ‘ فضل الرحمن دوست‘ کہیں نہیں جانے دیں گے: احسن اقبال
اشاعت کی تاریخ: 17th, March 2025 GMT
شکر گڑھ +چک امرو + اسلام آباد ( نامہ نگاران + نوائے وقت رپورٹ + آئی این پی) وفاقی وزیر احسن اقبال نے موضع پھلواڑی میں جعفر ایکسپریس آپریشن میں شہید اکمل کے گھر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ہمارے پرانے دوست ہیں، انہیں کہیں نہیں جانے دیں گے، جعفر ایکسپریس واقعہ بدترین ، سفاکانہ دہشت گردی کا واقعہ ہے۔ پی ٹی آئی حکومت کی نرمی نے دہشتگردی کو دوبارہ پنپنے کا موقع دیا، ہمیں اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے ایک دوسرے کی طاقت بننا چاہیے، بزدلانہ دہشت گردی کے واقعہ کی دوست ممالک نے شدید مذمت کی۔ سکیورٹی کونسل نے پرزور قرارداد کے ذریعے سانحہ کی مذمت کی ہے، سلامتی کونسل نے ممالک سے کہا ہے کہ اصل مجرم کو کیفر کردار پہ پہنچانے کے لیے پاکستان کے ساتھ تعاون کریں، کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے ہمارے ملک کے اندر دہشت گردی کرنے کی اجازت دے، دہشت گردی کے ایسے واقعات کے آگے تو امریکہ روس جیسے ممالک بھی بے بس ہوتے ہیں۔ نارووال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ بہادر جوانوں کے ہوتے ہوئے ملک کو کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ ہمارے دشمن سی پیک‘ بلوچستان کی معدنیاتی ترقی کو روکنے کی مذموم کوشش کر رہے ہیں۔ اسلام آباد سے جاری بیان میںاحسن اقبال نے کہا ہے کہ ملکی ترقی کیلئے دس سال کا دورانیہ درکار ہے، اب وہ وقت ختم ہو گیا ہے کہ بزنس مین کو حکومت کے پاس جانا پڑے گا۔ اب حکومت کو بزنس مین کے پاس آنا پڑے گا۔ وفاقی حکومت کا سارا بجٹ قرضوں کی نذر ہو جاتا ہے، پاکستان کی معاشی بحالی کے چیلنجز درپیش ہیں۔ ہماری ٹیکس کولیکشن بہت کم ہے، جب تک ٹیکس اکٹھا نہیں ہو گا ملک ترقی نہیں کر سکتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک