NEW DELHI:

بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ ٹرتھ سوشل ‘‘ پر اکاؤنٹ بنالیا، یہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرمپ میڈیا کی ملکیت ہے جس کا مالک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سمجھا جاتا ہے۔

ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق ٹرتھ سوشل پراپنی پہلی پوسٹ میں نریندر مودی نے  اپنے ’ اچھے دوست‘ امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ ایک تصویر شیئر کی  ہے۔ تصویر کے کیپشن میں انہوں نے لکھا کہ ٹرتھ سوشل پر آکر  مجھے بہت خوشی محسوس ہورہی ہے، اور یہاں میں تمام  پُرجوش آوازوں سے رابطہ کرنے اور آنے والے وقت میں بامعنی گفت و شنید کرنے کا متمنی ہوں۔

 اس پوسٹ کے ساتھ ہی مودی کی دونوں لیڈروں کے درمیان  بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل رابطوں میں بھی انٹری ہوگئی ہے۔

اپنی دوسری پوسٹ میں بھارتی وزیراعظم نے حال ہی میں معروف پوڈ کاسٹر اور کمپیوٹر سائنس داں لیکس فریڈمین کے ساتھ تین گھنٹے طویل پوڈ کاسٹ کا لنک شیئر کیا ہے۔

پوڈ کاسٹ میں قیادت سے لے کر عالمی معاملات تک کے موضوعات پر بات کی گئی۔ خود  ٹرمپ نے بھی اس پوڈ کاسٹ کو نمایاں کیا، جس سے دونوں رہنماؤں کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوئے۔ مودی نے اپنے پیغام میں اپنا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، "شکریہ، میرے دوست، صدر ٹرمپ۔ میں نے اپنی زندگی کے سفر، ہندوستان کے تہذیبی نقطہ نظر، عالمی مسائل اور دیگر موضوعات پر بات کی۔"

اتوار کو نشر ہونے والے پوڈ کاسٹ کے دوران، مودی نے انکشاف کیا کہ وہ اور ٹرمپ ممالک کو ترجیح دینے کے مشترکہ نقطہ نظر کی وجہ سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے باہمی اعتماد پر بھی روشنی ڈالی، جو صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے بھی مضبوط رہا۔

مودی نے ٹرمپ کے پہلے دور میں ہونے والے ایک واقعہ کا تذکرہ کیا جب ہوسٹن میں 'ہاؤڈی موڈی' تقریب کے دوران امریکی صدر نے سیکیورٹی پروٹوکول کو نظر انداز کرتے ہوئے اسٹیڈیم کا ایک چکر لگانے کی درخواست کو قبول کیا تھا۔

یہ پیش رفت مودی کی ڈیجیٹل  میڈیا پر موجودگی کے لحاظ سے ایک اہم لمحہ ہے، خاص طور پر جب وہ ٹرمپ کے حامیوں میں مقبول پلیٹ فارم کے ساتھ خود کو منسلک کر رہے ہیں۔

 

 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ٹرتھ سوشل پوڈ کاسٹ ٹرمپ کے کے ساتھ

پڑھیں:

جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات

بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ‘ممتا بنرجی’ نے بنگلہ دیش کی انقلابی تحریک کے مرکزی رہنما عثمان ہادی کے قتل کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔

منگل کو ممتا بنر جی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل قتل میں ملوث اصل چہروں سے واقف ہیں، تاہم قومی اور سفارتی اثرات کے باعث وہ فی الحال نام ظاہر نہیں کر رہیں۔

بی جے پی حکومت پر سنگین الزامات

منگل کو وسطی کولکتہ میں ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی وفاقی حکومت پر پہلی بار کھل کر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت عثمان ہادی کے قتل کیس سے متعلق انتہائی حساس معلومات اور شواہد کو عوام سے چھپا رہی ہے۔

میگھالیہ سرحد سے داخلہ اور اسپیشل ٹاسک فورس کی کارروائی

سابق وزیراعلیٰ نے سنسنی خیز تفصیلات بتاتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کی تنظیم ’انقلاب منچ‘ کے مرکزی کردار عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان بھارتی ریاست میگھالیہ کی سرحد کے راستے مغربی بنگال میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی مغربی بنگال کی ’اسپیشل ٹاسک فورس‘ (ایس ٹی ایف) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔

امیت شاہ کا فون اور خاموش رہنے کی درخواست

ممتا بنرجی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے فوراً بعد انہیں بھارتی وزیر داخلہ ’امیت شاہ‘ کا فون موصول ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس کے مرکزی ملزمان کا عدالت میں الزامات سے انکار

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’امیت شاہ‘  نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کیس کی تفصیلات اور ملزمان کی شناخت کو عوام کے سامنے نہ لایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست ’قومی مفاد‘ سے جڑا ہوا ہے‘۔

ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے ملک اور خطے کے مفاد میں خاموش تھیں، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں مبینہ سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے بعد اب وہ سچ بولنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔

دوسری جانب نئی دہلی میں وفاقی حکومت کی طرف سے ممتا بنرجی کے ان سنگین الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

مجھے سب کچھ معلوم ہے

اپنے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ عثمان ہادی کے قتل کا حتمی حکم کس نے دیا تھا؟ انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ وہ سازش کاروں کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہیں۔

نام نہ بتانے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ قتل کس نے کروایا اور کن لوگوں کے نام سامنے آئے تھے۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، لیکن مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ اگر میں نے ابھی نام ظاہر کر دیے تو بنگلہ دیش میں شدید سیاسی اثرات اور بھونچال آ سکتا ہے‘۔

مزید پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس: مرکزی ملزم فیصل کے معاون کو بھارت میں گرفتار کر لیا گیا

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے دوران ممتا بنرجی کے اس بیان نے نہ صرف بھارتی سیاست کو گرما دیا ہے، بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین حساس سفارتی تعلقات پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الزامات امیت شاہ بنگلہ دیش ترنمول کانگریس سنگین سیاسی عثمان ہادی۔ مغربی بنگال ممتا بنر جی مودی سرکار

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل