بنوں کینٹ حملہ میں ہلاک مزید 3 افغان دہشتگردوں کی شناخت ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 18th, March 2025 GMT
تحقیقات میں مزید انکشاف ہوا کہ حملے میں افغان دہشت گرد انصار اللہ المعروف طیب بھی مارا گیا۔ ذرائع کے مطابق انصار اللہ کا تعلق میدان وردگ سے تھا اور وہ خودکش حملہ آور تھا۔ اسلام ٹائمز۔ بنوں کینٹ حملہ میں ہلاک مزید 3 افغان دہشت گردوں کی شناخت ہوگئی ہے، تفتیشی ذرائع کے مطابق پہلے ہی 2 افغان دہشت گردوں کی شناخت ہو چکی تھی۔ ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کا تعلق افغانستان کے مختلف اضلاع سے تھا۔ ایک حملہ آور کی شناخت عبدالرزاق حجران کے نام سے ہوئی، جو افغانستان کے صوبہ پکتیا کے ضلع زرمت میں کالاگو بازار کا رہائشی تھا۔ تحقیقات میں مزید انکشاف ہوا کہ حملے میں افغان دہشت گرد انصار اللہ المعروف طیب بھی مارا گیا۔ ذرائع کے مطابق انصار اللہ کا تعلق میدان وردگ سے تھا اور وہ خودکش حملہ آور تھا۔ ہلاک دہشت گردوں میں ایک اور افغان عتیق اللہ صافی بھی شامل تھا، جو کابل کے علاقے پل چرخی کا رہائشی تھا۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق عتیق اللہ نے عسکری تربیت کالعدم گل بہادرگروپ کے دہشت گردوں کی نگرانی میں حاصل کی تھی۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ حملے کے بعد کابل کی ایک مسجد میں عتیق اللہ صافی کے لیے دعائیہ تقریب بھی منعقد کی گئی۔ تفتیش کے دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ ہلاک دہشت گردکے قریبی رشتہ داروں میں ان کا بھائی فرزاد، عاشق اور شفیق صافی شامل ہیں۔ تفتیشی ذرائع کےمطابق بنوں کینٹ حملے کی مزید تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ حملے کے مزید حقائق اور نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جاسکے۔ یاد رہے کہ بنوں کینٹ کی دیوار کے قریب 4 مارچ کو 2 خودکش حملے ہوئے تھے جس کی ذمہ داری کالعدم تنظیم گل بہادر گروپ نے قبول کی تھی۔ بروقت اور مؤثر کارروائی کے نتیجے میں تمام 16 حملہ آور ہلاک ہوگئے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ذرائع کے مطابق افغان دہشت انصار اللہ بنوں کینٹ گردوں کی حملہ آور کی شناخت
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔