یوزویندر چاہل اور دھناشری کی راہیں الگ، کرکٹر عدالتی حکم پر اہلیہ کو کتنی رقم دینے کے لیے تیار ہوگئے؟
اشاعت کی تاریخ: 19th, March 2025 GMT
بھارتی کرکٹر یوزویندر چاہل اور ان کی اہلیہ دھناشری ورما کی طلاق کے کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، ممبئی ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق عدالت نے فیملی کورٹ کو ہدایت کی ہے کہ وہ کرکٹر یوزویندر چاہل اور ان کی علیحدہ بیوی دھناشری ورما کی طلاق کی درخواست پر 20 مارچ تک فیصلہ کرے، کیونکہ یوزویندر چاہل کو 22 مارچ سے شروع ہونے والے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2025 سیزن میں شرکت کرنی ہے۔
ایکس کے پیج بار اینڈ بینچ کے مطابق، یہ جوڑا دسمبر 2020 میں شادی کے بندھن میں بندھاتھا اور جون 2022 سے الگ رہ رہا ہے۔ اور اس سال فروری میں انہوں نے باندرا فیملی کورٹ میں طلاق کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس جوڑے نے درخواست کے ساتھ ایک درخواست بھی دائر کی تاکہ کولنگ پیریڈ کی مدت کو ختم کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: دھناشری ورما سے علیحدگی کی خبروں پر یوزویندر چاہل کا بیان سامنے آ گیا
مذکورہ سیکشن 13B(2) کے تحت، فیملی کورٹ کسی بھی متفقہ طلاق کی درخواست پر اس کے دائر ہونے کی تاریخ سے چھ ماہ بعد ہی غور کر سکتی ہے۔ جوڑے کو سیٹلمنٹ کے لیے ایک ’کولنگ آف‘ مدت دی جاتی ہے۔ لیکن چونکہ چاہل اور دھناشری ایک دوسرے سے 2 سال سے زیادہ عرصہ سے علیحدہ رہ رہے ہیں اس لیے ممبئی ہائی کورٹ نے اس معاملے میں کولنگ آف کی شق کو لاگو کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔
یہ معاملہ اس وقت پیچیدہ ہو گیا جب 20 فروری کو عدالت نے 6 ماہ کی قانونی کولنگ آف مدت کو ختم کرنے کی درخواست مسترد کر دی، اس کی وجہ یہ تھی کہ چاہل اور دھناشری کے درمیان معاہدہ کی شرائط کے حوالے سے جزوی تعمیل کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: کیا بھارتی کھلاڑی یوزویندر چاہل کی دھناشری ورما سے علیحدگی ہوگئی؟ اہلیہ نے خاموشی توڑ دی
معاہدے کی شرائط کے تحت، یوزویندر چاہل نے دھناشری کو 4 کروڑ 75 لاکھ روپے بطور مستقل نان معقول رقم ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ تاہم، کرکٹر نے ابھی تک صرف 2 کروڑ 37 لاکھ 55 ہزار روپے ادا کیے ہیں۔ باقی رقم کی عدم ادائیگی کو عدالت نے عدم تعمیل کے معاملے کے طور پر دیکھا جس کی وجہ سے کولنگ آف کی درخواست مسترد کر دی گئی۔
فیملی کورٹ نے فیملی کونسلر کی رپورٹ کے بعد فیصلہ سنایا، جس میں عدم تعمیل کا معاملہ اجاگر کیا گیا تھا۔ ممبئی ہائی کورٹ نے نوٹ کیا کہ جوڑا پہلے ہی 2 سال سے زیادہ عرصہ سے علیحدہ رہ رہا ہے، جو معاہدے کی شرائط کے مطابق باقی رقم کی ادائیگی کے حق میں فیصلہ کرنے کا جواز فراہم کرتا ہے۔
فیملی کورٹ کو 20 مارچ (جمعرات) تک طلاق کی درخواست پر فیصلہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، کیونکہ آئی پی ایل سیزن قریب آ رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی کرکٹر دھنا شرہ ورما یوزویندر چاہل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارتی کرکٹر یوزویندر چاہل طلاق کی درخواست فیملی کورٹ کولنگ آف
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں