کراچی: مفت شربت کی بوتل لینے والے پولیس افسر کی ویڈیو وائرل، معطلی کا حکم جاری
اشاعت کی تاریخ: 19th, March 2025 GMT
کراچی:
پولیس کی جانب سے مفت میں اشیا لینے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے ، رمضان المبارک میں پولیس افسر کی جانب سے مفت میں شربت کی بوتل لینے کے واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔
اس سے قبل شارع نور جہاں تھانے کے اہلکار کی پھل فروش سے مفت میں خربوزہ لینے کی موبائل فون سے بنائی گئی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی تاہم مفت میں شربت کی بوتل لینے والے مددگار 15 کے پولیس افسر کو معطل کر دیا گیا۔
ترجمان کراچی پولیس کے مطابق ایس ایس پی مددگار 15 عمران شوکت نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کا نوٹس لیا ہے جس میں پولیس کا سب انسپکٹر کو تھانہ سائٹ بی کی حدود میں قائم ایک مارٹ سے شربت کی بوتل بلا معاوضہ لیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
ایس ایس پی مددگار 15 نے واقعے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے سب انسپکٹر جاوید کو فوری طور پر معطل کر کے محکمہ انکوائری کو ہدایت جاری کر دی۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں پولیس کی وردی میں ملبوس سب انسپکٹر جو کہ چہرے پر ماسک لگایا ہوا تھا مارٹ کے کاؤنٹر پر آکر شربت کی بوتل مانگتا ہے ، دکاندار کی جانب سے پیسے طلب کرنے پر اپنا ماسک اتار کر اسے دیکھتا ہوا دکھائی دیتا ہے اور بعدازاں شاپر میں دی گئی شربت کی بوتل لیکر مارٹ سے جاتا ہوا دکھائی دیا۔
چند روز قبل ڈسٹرکٹ سینٹرل کے تھانے شارع نور جہاں کی پولیس موبائل میں سوار 4 اہلکاروں میں سے ایک اہلکار ظفر کی جانب سے قلندریہ چوک کے قریب پھل فروش سے مفت میں ٹھیلے سے خربوزہ اٹھانے پر پھل فروش سے تلخ کلامی کی موبائل فون سے بنائی گئی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں پولیس اہلکار پھل فروش کو سنگین نتائج کی دھمکیاں اور مغلظات دیتے ہوئے سنائی دیا۔
تاہم ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سینٹرل نے پولیس موبائل میں سوار چاروں اہلکاروں کو معطل کر دیا اور بعدازاں تحقیقات کے بعد پولیس اہلکار ظفر کو ملازمت سے برطرف کرنے کا حکمنامہ جاری کر دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا پر وائرل شربت کی بوتل کی جانب سے سے مفت میں میں پولیس پھل فروش
پڑھیں:
اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے خلاف سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کے معاملے پر اے این پی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے نیشنل سائبرکرائم انوسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں درخواست جمع کرادی۔
ایک شخص کےخلاف آئی جی اور سیکرٹری داخلہ کو بھی درخواست دی گئی ہے۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق میاں افتخار کا کہنا ہے کہ اے این پی کے خلاف سوشل میڈیا پر مذہبی بنیادوں پر نفرت انگیز اور اشتعال انگیز مہم قابل مذمت ہے، پارٹی کے خلاف نفرت پھیلا کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اے این پی آئین کی بالادستی، جمہوریت، عدم تشدد اور انتہا پسندی کے خلاف جدوجہد کی علمبردار ہے۔
امریکی فورسز نے متعدد ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرونز کو تباہ کر دیا: سینٹکام
میاں افتخار نے مطالبہ کیا ہےکہ این سی سی آئی اے، آئی جی اور سیکرٹری داخلہ فوری اور شفاف تحقیقات کرائیں، نفرت انگیز مواد پھیلانے اور جھوٹے بیانیے تشکیل دینے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
مزید :