گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہےکہ پی ٹی آئی کو اُن ایک کروڑ لوگوں کی آہ لگ گئی جو نوکری کے آسرے میں تھے۔گورنر سندھ سحری کیلئے کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن پہنچے تو ان کا استقبال گل پاشی اور آتشبازی کے ذریعے کیا گیا۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےکامران خان ٹیسوری نے کہا کہ گورنر ہائوس کی دیواریں گرانے کے دعویداروں نے دیواریں اونچی کی تھیں۔انہوں نے پی ٹی آئی کو مشورہ دیا کہ امریکی وزارت خارجہ پر ماتھا ٹیکنے اور ڈونلڈ ٹرمپ کے گھٹنوں پر ہاتھ رکھنے کے بجائے اللہ سے معافی مانگے۔گورنرسندھ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو اُن ایک کروڑ لوگوں کی آہ لگ گئی جو نوکری کے آسرے میں تھے، لوگ کہتے ہیں امید عمران خان نے دلوائی تھیاس موقع پر موجود ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ کامران خان ٹیسوری نے ایک نمائشی گورنری کو عوامی عہدہ بنادیا۔اس کے علاوہ گورنر سندھ کو خاتون نے شوہر کے مظالم کابتایا تو انہوں نے خاتون کو انصاف کا یقین دلایا اور اس کے بچوں کو تعلیم دلوانے کا اعلان بھی کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: پی ٹی آئی کو گورنر سندھ

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • تیسرے آپریشن کے بعد آنیوالی خواتین کا مانع حمل آپریشن کر دینا چاہیے، وزیر صحت سندھ
  • گورنر سندھ سے مبشر میر کی قیادت میں کراچی ایڈیٹرز کلب کے وفد کی ملاقات
  • پیٹرول مہنگا ہونے سے عوام اور پمپ مالکان پریشان، 90 فیصد لوگوں کا ٹنکی فُل کروانا خواب بن گیا
  • پیپلز پارٹی کی قیادت پر انگلی اٹھانے سے پہلے رانا ثنا اللہ کو ماڈل ٹاؤن کے خون کا حساب دینا چاہیئے، سعدیہ جاوید
  • تیسرے آپریشن کے بعد آنے والی خواتین کا مانع حمل آپریشن کردینا چاہیے، وزیر صحت سندھ
  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست