پی ٹی آئی کو اُن ایک کروڑ لوگوں کی آہ لگی جو نوکری کے آسرے میں تھے: گورنر سندھ
اشاعت کی تاریخ: 20th, March 2025 GMT
گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہےکہ پی ٹی آئی کو اُن ایک کروڑ لوگوں کی آہ لگ گئی جو نوکری کے آسرے میں تھے۔گورنر سندھ سحری کیلئے کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن پہنچے تو ان کا استقبال گل پاشی اور آتشبازی کے ذریعے کیا گیا۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےکامران خان ٹیسوری نے کہا کہ گورنر ہائوس کی دیواریں گرانے کے دعویداروں نے دیواریں اونچی کی تھیں۔انہوں نے پی ٹی آئی کو مشورہ دیا کہ امریکی وزارت خارجہ پر ماتھا ٹیکنے اور ڈونلڈ ٹرمپ کے گھٹنوں پر ہاتھ رکھنے کے بجائے اللہ سے معافی مانگے۔گورنرسندھ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو اُن ایک کروڑ لوگوں کی آہ لگ گئی جو نوکری کے آسرے میں تھے، لوگ کہتے ہیں امید عمران خان نے دلوائی تھیاس موقع پر موجود ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ کامران خان ٹیسوری نے ایک نمائشی گورنری کو عوامی عہدہ بنادیا۔اس کے علاوہ گورنر سندھ کو خاتون نے شوہر کے مظالم کابتایا تو انہوں نے خاتون کو انصاف کا یقین دلایا اور اس کے بچوں کو تعلیم دلوانے کا اعلان بھی کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پی ٹی آئی کو گورنر سندھ
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔