چیمپئنز ٹرافی کے کامیاب انعقاد کے بعد اس سے حاصل ہونے والے ریونیو کے حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ کا مؤقف سامنے آگیا۔چیئرمین پی سی بی کے مشیر عامر میر اور  چیف فنانشل آفیسر (سی ایف او) جاوید مرتضیٰ نے لاہور میں پریس کانفرنس کی۔اس موقع پر عامر میر نے کہا کہ بھارتی میڈیا کا پراپیگنڈا بے نقاب کرنا ہے جو اس وقت کیا جا رہا ہے، پاکستان دشمن میڈیا ایک جھوٹ کی دکان چلا رہے ہیں، افسوس کی بات ہے کہ پاکستانی میڈیا نے بھی یہ چلایا ہے۔عامر میر نے کہا کہ دو ارب روپے منافع کا تخمینہ لگایا تھا لیکن تین ارب روپے منافع کا تخمینہ ہے، توقع سے زیادہ منافع ہوا، یہ منافع گیٹ منی اور گراؤنڈ فیس سے حاصل ہوا ہے، پی سی بی کی طرف سے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کا کوئی پیسہ نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ ابھی سب آڈٹ ہونا ہے لیکن اس کے باوجود تین ارب کے منافع کا تخمینہ لگایا ہے، پی سی بی نے چار اب روپے حکومت کو ٹیکس دیا ہے، آئی سی سی نے تمام اخراجات اٹھائے، 70 ملین ڈالرز کا آئی سی سی نے بجٹ بنایا تھا۔عامر میر نے کہا کہ پی سی بی کے پیسے میں کمی نہیں اضافہ ہو رہا ہے، پی سی بی نے چیمپئنز ٹرافی کا کامیابی سے انعقاد کیا، تمام بڑی ٹیموں نے پاکستان میں کرکٹ کھیلی، چیئرمین محسن نقوی نے گراؤنڈز کی آپ گریڈیشن کا مشکل ٹاسک لیا اور پھر مکمل کیا، قذافی اسٹیڈیم 90 فیصد نیا بنا یہ ملک کا اثاثہ ہے۔اس موقع پر جاوید مرتضیٰ نے کہا کہ پی سی بی کو کوئی مالی نقصان نہیں کیا، 2023 اور 24 کے مالی سال میں 10 ارب کا منافع ہوا، اسٹیڈیمز کے لیے بجٹ 18 ارب روپے تک تھا۔جاوید مرتضیٰ نے کہا کہ دو مرحلوں کا بجٹ 18 ارب تھا، پہلا مرحلہ 12.

80 ارب کا تھا، ہم مجموعی طور پر مالی لحاظ سے مضبوط ہوئے ہیں، یہ آئی سی سی کا ایونٹ تھا جس کا انعقاد پی سی بی نے کیا۔انہوں نے کہا کہ اسٹیڈیم صرف چیمپئنز ٹرافی کیلئے نہیں بلکہ اگلے 30 سال کیلئے بنائے ہیں، پی سی بی مالی طور پر مستحکم ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: چیمپئنز ٹرافی نے کہا کہ پی سی بی

پڑھیں:

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔

سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔

9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔

نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بجلی صارفین متوجہ ہوں،اہم اعلان سامنے آگیا
  • رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں