پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا کو کنٹرول اور فنانس کون کر رہا، ہولناک انکشافات
اشاعت کی تاریخ: 20th, March 2025 GMT
سٹی42: سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا مہم میں پی ٹی آئی کے ملوث ہونے کے ہوشربا انکشافات ہوئے ہیں۔ تمام شواہد سامنے آ گئے کہ پی ٹی آئی کیسے پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا پر منظم منفی پروپیگنڈامیں مصروف ہے۔ غیر ملکی لابیز اس منفی پروپیگنڈا کو کنٹرول اور فنانس کر رہی ہیں۔
پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کئے جا رہے منفی پروپیگنڈا میں ملوث افراد اور گروہوں کا تعین کر کے ان کے خلاف مؤثر کارروائی کے لئے خاص طور سے بنائی گئی جوائنٹ انویسٹ گیشن کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا کے حوالے سے پی ٹی آئی کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد سامنے آئے ہیں۔
جے آئی ٹی کی تحقیقات میں سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا مہم میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ملوث ہونے کے ہوشربا انکشافات ہوئے۔ جے آئی ٹی ذرائع نے کہا کہ سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا کے حوالے سے پی ٹی آئی کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔
خبردار ! رات گئے تک جاگنا اچھا نہیں۔۔
پی ٹی آئی کے افراد سے تفتیش کے دوران جے آئی ٹی نے مزید اشتعال انگیز مواد جمع کیا ہے، یہ مواد پی ٹی آئی قیادت کی ریاست مخالف سرگرمیوں اور پروپیگنڈے کا ثبوت ہے۔
ذرائع نے کہا کہ ریاست مخالف سرگرمیوں میں پی ٹی آئی کی قیادت کے قریبی رشتے دار بھی ملوث پائے گئے ہیں، جے آئی ٹی فعال مجرموں کے خلاف قانونی اور انتظامی کارروائیوں کی سفارش کر رہی ہے۔
جے آئی ٹی مفرور اور پاکستان سے باہر کام کر رہے افراد کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش بھی کر رہی ہے۔
پنجاب: بائیکس گرین لین منصوبہ اخراجات, درخواست پر ہائیکورٹ آفس کا اعتراض برقرار
پی ٹی آئی نے منظم منفی پروپیگنڈا کا کام کیسے کیا، کنٹرول کس کا ہے
جے آئی ٹی نے انکشاف کیا کہ پی ٹی آئی سینٹرل میڈیا ڈویژن اور سوشل میڈیا ٹیم کی کارروائیاں 'رضاکار فورس' کے ذریعے نہیں کی گئیں۔
یہ ریاست مخالف پروپیگنڈا اندرون ملک اور آف شور اکاؤنٹس کے ہینڈلرز کے ذریعے کیا گیا۔
اس پروپیگنڈا مہم کے لئے مالی معاونت غیر ملکی لابیز اور پی ٹی آئی قیادت کے ذریعے کی جا رہی ہے۔
افسران و ملازمین کے لیے خوشخبری
اس بات کے ٹھوس شواہد سامنے آئے ہیں کہ غیر ملکی لابیز پی ٹی آئی کی قیادت کے ساتھ مل کر اس پروپیگنڈا مہم کو کنٹرول کر رہی ہیں۔
جے آئی ٹی اب بھی پی ٹی آئی کے افراد سے سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈے کے حوالے سے تحقیقات کر رہی ہے۔
پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا کہلانے والے ویب پلیٹ فارمز پر ج منفی پروپیگنڈا کی چھان بین اور اس کے اوریجن کا سراغ لگانے ،ذمہ دار افراد اور گروہوں کا تعین کرنے اور ان کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے کی سفارشات مرتب کرنے کے لئے خصوصی آئی ٹی الیکٹرانک جرائم کے ایکٹ 2016 کے تحت تشکیل دی گئی تھی۔ اس جے آئی ٹی کی قیادت اسلام آباد پولیس کےانسپکٹر جنرل علی ناصر رضوی کر رہے ہیں جو اس طرح کی تحقیقات میں خصوصی مہارت رکھتے ہیں۔ اس جے آئی ٹی مین ایف آئی اے سائبر کرائمز ونگ اور دوسرے قانون نافذ کرنے والے افاروں کے ساتھ انٹیلیجنس کمیونٹی کے سینئیر افراد بھی شامل ہیں۔
پھلوں اور سبزیوں کی آج کی ریٹ لسٹ -جمعرات 20 مارچ, 2025
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا پاکستان کے خلاف کے ملوث ہونے کے پروپیگنڈا مہم پی ٹی آئی کے شواہد سامنے جے ا ئی ٹی جے آئی ٹی رہی ہے کر رہی
پڑھیں:
جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ‘ممتا بنرجی’ نے بنگلہ دیش کی انقلابی تحریک کے مرکزی رہنما عثمان ہادی کے قتل کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔
منگل کو ممتا بنر جی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل قتل میں ملوث اصل چہروں سے واقف ہیں، تاہم قومی اور سفارتی اثرات کے باعث وہ فی الحال نام ظاہر نہیں کر رہیں۔
بی جے پی حکومت پر سنگین الزاماتمنگل کو وسطی کولکتہ میں ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی وفاقی حکومت پر پہلی بار کھل کر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت عثمان ہادی کے قتل کیس سے متعلق انتہائی حساس معلومات اور شواہد کو عوام سے چھپا رہی ہے۔
میگھالیہ سرحد سے داخلہ اور اسپیشل ٹاسک فورس کی کارروائیسابق وزیراعلیٰ نے سنسنی خیز تفصیلات بتاتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کی تنظیم ’انقلاب منچ‘ کے مرکزی کردار عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان بھارتی ریاست میگھالیہ کی سرحد کے راستے مغربی بنگال میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی مغربی بنگال کی ’اسپیشل ٹاسک فورس‘ (ایس ٹی ایف) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔
امیت شاہ کا فون اور خاموش رہنے کی درخواستممتا بنرجی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے فوراً بعد انہیں بھارتی وزیر داخلہ ’امیت شاہ‘ کا فون موصول ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس کے مرکزی ملزمان کا عدالت میں الزامات سے انکار
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’امیت شاہ‘ نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کیس کی تفصیلات اور ملزمان کی شناخت کو عوام کے سامنے نہ لایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست ’قومی مفاد‘ سے جڑا ہوا ہے‘۔
ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے ملک اور خطے کے مفاد میں خاموش تھیں، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں مبینہ سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے بعد اب وہ سچ بولنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔
دوسری جانب نئی دہلی میں وفاقی حکومت کی طرف سے ممتا بنرجی کے ان سنگین الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
مجھے سب کچھ معلوم ہےاپنے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ عثمان ہادی کے قتل کا حتمی حکم کس نے دیا تھا؟ انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ وہ سازش کاروں کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہیں۔
نام نہ بتانے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ قتل کس نے کروایا اور کن لوگوں کے نام سامنے آئے تھے۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، لیکن مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ اگر میں نے ابھی نام ظاہر کر دیے تو بنگلہ دیش میں شدید سیاسی اثرات اور بھونچال آ سکتا ہے‘۔
مزید پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس: مرکزی ملزم فیصل کے معاون کو بھارت میں گرفتار کر لیا گیا
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے دوران ممتا بنرجی کے اس بیان نے نہ صرف بھارتی سیاست کو گرما دیا ہے، بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین حساس سفارتی تعلقات پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الزامات امیت شاہ بنگلہ دیش ترنمول کانگریس سنگین سیاسی عثمان ہادی۔ مغربی بنگال ممتا بنر جی مودی سرکار