ایف آئی اے کی بڑی کارروائی،یونان کشتی حادثے میں ملوث بدنام زمانہ گینگ کے سرغنہ سمیت 2 ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 21st, March 2025 GMT
فیصل آباد: فیڈرل انوسٹیگیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ میں ملوث دو مشہور ملزمان کو گرفتار کیا ہے، جن میں 2024 کے یونان کشتی حادثے میں ملوث بدنام زمانہ گینگ کے سرغنہ بھی شامل ہیں۔
گرفتار ملزمان کی شناخت:
مشتاق احمد
محمد توصیف
ان ملزمان کو منڈی بہاؤالدین اور میانوالی سے گرفتار کیا گیا۔مشتاق احمد کو غیر قانونی طریقے سے شہریوں کو لیبیا سے یورپ بھیجنے میں ملوث پایا گیا ہے اور وہ یونان میں ہونے والے المناک کشتی حادثے میں بھی ملوث ہے۔ تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ مشتاق احمد انسانی اسمگلنگ کے ذریعے حاصل کی جانے والی غیر قانونی رقم مختلف بینک اکاؤنٹس میں منتقل کرتا رہا۔ اس کے علاوہ، ملزم کا تعلق ایک بین الاقوامی اسمگلنگ گینگ سے بھی تھا، اور وہ شہریوں سے رقم وصول کر کے انسانی اسمگلروں کو ٹرانسفر کرتا تھا۔
– مشتاق احمد 2023 سے اشتہاری تھا اور اس کے خلاف متعدد مقدمات درج ہیں۔
– اس کے خلاف کمپوزٹ سرکل سرگودھا میں بھی انسانی اسمگلنگ کے مقدمات زیر تفتیش ہیں۔
– ابتدائی تحقیقات سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ ملزم کے قریبی رشتہ دار بھی انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں، اور اس کا بھائی اور بھابھی پہلے ہی گرفتار ہو چکے ہیں۔
– ملزم کے دیگر ساتھی، یاسر بلال، مختار، اور محمد نواز کے خلاف بھی 2023 اور 2025 کے دوران متعدد مقدمات درج ہیں۔
ایف آئی اے نے گرفتار ملزمان سے تفصیلی تفتیش کا آغاز کر دیا ہے اور دیگر ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مار کارروائیاں جاری ہیں۔ تفتیش کی مزید پیشرفت کے ساتھ اپڈیٹس فراہم کی جائیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: انسانی اسمگلنگ مشتاق احمد میں ملوث
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔