خیبر پی کے میں سکولوں کی حالت زار : متعلقہ سیکرٹریز بتائیں توہین عدالت کی کارروائی کیوں نہ کی جائے : آئینی بنچ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, March 2025 GMT
اسلام آباد (خصوصی رپورٹر) خیبر پی کے میں سکولوں کی حالت زار پر ازخود نوٹس سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے آئندہ سماعت پر تمام سیکرٹریز کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔ عدالت نے خیبر پختونخوا کے سیکرٹریز سے تحریری وضاحت بھی طلب کرلی ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ متعلقہ سیکریٹریز بتائیں کہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد کیوں نہیں ہوا، بتایا جائے عدالتی حکم عدولی پر توہین عدالت کی کارروائی کیوں نہ کی جائے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ سیکریٹری مواصلات کی میڈیکل رپورٹ آئی ہے، رپورٹ 11 بج کر 13 منٹ پر بنوائی گئی جب ہم بنچ سے اٹھ چکے تھے، میڈیکل بورڈ بلا کر اس رپورٹ کا جائزہ لے لیتے ہیں۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ کے پی نے بتایا کہ سیکریٹری تعلیم اور سیکریٹری خزانہ ہزارہ انٹر چینج تک پہنچے ہیں۔ جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس میں کہا کہ آئندہ سماعت پر تمام متعلقہ سیکریٹریز پیش ہوں۔ آئینی بینچ نے کیس کی سماعت 9 اپریل تک ملتوی کر دی۔ قبل ازیں، جسٹس جمال خان مندوخیل نے سیکرٹری تعلیم کی عدم حاضری پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سیکرٹری تعلیم خیبر پختونخوا کو 12 بجے طلب کیا تھا۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے تھے کہ سیکرٹری نہیں ہیں آپ لوگوں نے مذاق بنایا ہوا ہے، ہماری عدالت کا گزشتہ آرڈر پڑھیں وہ کیا ہے، آپ لوگ اس عدالت کے احکامات کو بادر ہی نہیں کر رہے، ایک سیکرٹری اس عدالت کی بات نہیں سن رہا مذاق بنایا ہوا ہے۔ایڈووکیٹ جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ پشاور سے سیکرٹری صاحب دو گھنٹے میں آ سکتے ہیں انہیں بلائیں، ہمیں ان کو بلانے کا طریقہ آتا ہے۔عدالت نے کیس کی سماعت 12 بجے تک ملتوی کی تھی جبکہ صوبائی سیکرٹری خزانہ و سیکرٹری مواصلات کو بھی طلب کیا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مندوخیل نے جسٹس جمال
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔