ماہ رنگ بلوچ کو سریاب روڈ دھرنے سے گرفتار کیا گیا ہے، بلوچ یکجہتی کمیٹی کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, March 2025 GMT
کوئٹہ میں لواحقین کو لاشیں نہ دکھانے اور بلوچ یک جہتی کمیٹی (بی وای سی )کے کارکنان کی گرفتاری کے خلاف سریاب روڈ پر احتجاج جاری ہے۔
گزشتہ روز مبینہ طور پر تصادم میں جاں بحق ہونے والے افراد کی میتوں کے ہمراہ بی وائی سی نے دھرنا دیا ہوا ہے جس میں بچے اور خواتین بھی شریک ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: کوئٹہ: مظاہرین 5 خود کش حملہ آوروں کی لاشیں اسپتال سے زبردستی لے گئے، معاملہ کیا ہے؟
بی وائی سی کے مطابق پولیس کی جانب سے دھرنا ختم کروانے کے لیے کارروائی کرکے لاشیں تحویل میں لی گئی ہیں اور بی وائی سی کی آرگنائزر ماہ رنگ بلوچ کو گرفتار کیا گیا ہے تاہم پولیس اور انتظامیہ نے تاحال ماہ رنگ بلوچ کی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی ہے۔
کوئٹہ میں کشدہ حالات کے پیش نظر موبائل فون سروس اور موبائل انٹرنیٹ سروس معطل ہے جبکہ بی وائی سی کی کال پر صوبے میں شٹر ڈوان اور پہیہ جام ہڑتال بھی جاری ہے۔
اس دوران مستونگ، قلات، خضدار اور حب سمیت دیگر بلوچ آبادی والے اضلاع میں کاروباری مراکز مکمل بند رہے جبکہ کوئٹہ میں سریاب روڈ اور ملحقہ علاقوں میں جزوی شٹر ڈاؤن ہڑتال دیکھا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
mahrang baloch missing persons quetta protest بلوچستان دھرنا سریاب روڈ کوئٹہ ماہ رنگ بلوچ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان سریاب روڈ کوئٹہ ماہ رنگ بلوچ ماہ رنگ بلوچ بی وائی سی سریاب روڈ
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔