سیکرٹری انفارمیشن کو اشتہار میں وزیراعلیٰ کے پی کی تصویر لگانے پر ہٹا دیا گیا، ذرائع
اشاعت کی تاریخ: 22nd, March 2025 GMT
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور : فوٹو فائل
سرکاری اشتہار میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی تصویر لگانے پر سیکریٹری اطلاعات ارشد خان کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ نے اشتہارات میں سیاسی شخصیات کی تصاویر شامل کرنے پر چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو خط لکھ دیا۔
خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومتی اشتہارات عوامی آگاہی اور تعلیمی مقاصد کے لیے ہوتے ہیں، جن میں سیاسی شخصیات کی تصاویر قابلِ قبول نہیں۔
وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے پالیسی کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی ہدایت کی اور 72 گھنٹوں میں ذمہ داران کی نشاندہی کرکے رپورٹ پیش کرنے کا کہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اشتہار میں وزیر اعلیٰ کی تصویر لگانے پر سیکریٹری اطلاعات کو عہدے سے ہٹا دیا گیا، جبکہ سیکریٹری اطلاعات ارشد خان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وزیرِاعلیٰ کی تصویر غلطی سے اخبار میں شائع ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔