ڈیرہ مراد جمالی میں مجلس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ امام علی علیہ السلام کی ذات اسلامی تعلیمات کا عملی نمونہ ہے، اور آپؑ کے اقوال و فرامین رہتی دنیا تک ہدایت اور روشنی کا مینار رہینگے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان ضلع نصیر آباد کے زیر اہتمام جامع مسجد میں شہادت مولا علی علیہ السلام کی مناسبت سے مجلس عزاء منعقد ہوئی۔ مجلس عزاء سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنماء علامہ مقصود علی ڈومکی اور صوبائی صدر علامہ سید ظفر عباس شمسی نے خطاب کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ حضرت علی علیہ السلام کی زندگی عالم انسانیت کے لئے مشعل راہ ہے۔ آپؑ کی سیرت طیبہ عدل پسندی، علم، تقویٰ زہد، شجاعت اور حلم کو اپنا کر ہر شخص دنیا اور آخرت میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ آپؑ کی ذات اسلامی تعلیمات کا عملی نمونہ ہے، اور آپؑ کے اقوال و فرامین رہتی دنیا تک ہدایت اور روشنی کا مینار رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ حضرت علیؑ کی خلافت ایک مثالی اسلامی حکومت کی علامت ہے۔ آپؑ نے ہمیشہ انصاف، مساوات اور حق گوئی کو ترجیح دی۔ آپؑ نے فرمایا کہ دنیا کی سب سے بڑی خیانت حکومت میں خیانت ہے اور سب سے بڑا دھوکہ رعایا کے ساتھ دھوکہ ہے۔ آپؑ کی حکومت میں کوئی شخص قانون سے بالاتر نہیں تھا اور آپؑ نے ہمیشہ کمزوروں اور مظلوموں کا ساتھ دیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے علامہ سید ظفر عباس شمسی نے کہا کہ حضرت علیؑ کی زندگی انتہائی سادہ تھی۔ آپؑ نے ہمیشہ سادگی اور قناعت کو ترجیح دی۔ آپؑ کی خوراک جو کی روٹی اور نمک پر مشتمل ہوتی تھی، حالانکہ بیت المال پر آپؑ کا مکمل اختیار تھا۔ آپؑ نے فرمایا کہ دنیا کی مثال سانپ کی مانند ہے، جو دیکھنے میں نرم لگتی ہے مگر اس کا زہر جان لیوا ہوتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: علامہ مقصود نے کہا کہ

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • بلاول کل چلاس جبکہ آصفہ بھٹو ہنزہ میں خطاب کریں گی
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی