اسلام آباد(نیوز ڈیسک)آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) اور قومی اسمبلی (این اے) سیکریٹریٹ کے درمیان سال 2024-25ء کی وفاقی آڈٹ رپورٹس پر سنگین تنازع پیدا ہوگیا ہے۔ سبکدوش ہونے والے اے جی پی نے غلطیوں اور غلط رپورٹنگ کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے، جبکہ اسپیکر اپنے اس فیصلے پر قائم ہیں کہ یہ رپورٹس خلاف ورزیوں کے باعث واپس بھیجی جائیں۔ روزنامہ دی نیوز میں قومی اسمبلی کے ترجمان کے حوالے سے شائع ہونے والی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے اے جی پی نے اس تاثر کو مسترد کر دیا کہ یہ رپورٹس واپس بھیجی گئی ہیں، اور اعداد شمار میں کوئی ’’غلطی‘‘ ہے۔ تنازع گزشتہ ماہ اس وقت شروع ہوا جب اسپیکر نے مالی سال 2023-24ء سے متعلق آڈٹ رپورٹس (آڈٹ ایئر 2024-25) اے جی پی کو واپس بھجوا دیں۔ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے اس کی دو وجوہات بتائی تھیں: رپورٹس وزارتِ پارلیمانی امور کے ذریعے بھیجنے کے بجائے براہ راست سیکریٹریٹ کو ارسال کی گئیں، اور ان رپورٹس کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے سے قبل آن لائن شائع کر دیا گیا، جسے ’’ایوان کی توہین‘‘ قرار دیا گیا تھا۔ پیر کے روز جاری وضاحت میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے محکمے (ڈی اے جی پی) نے ان الزامات کو ’’بے بنیاد اور گمراہ کن‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مالی سال 2023-24ء کی آڈٹ رپورٹس اور مالیاتی گوشوارے آئین کے آرٹیکلز 168 تا 171 کے مطابق وزیرِاعظم کے ذریعے صدرِ مملکت کو ارسال کیے گئے تھے۔ صدر مملکت نے 12؍ اپریل 2025ء کو ان رپورٹس کی منظوری دی جس کے بعد یہ رپورٹس دونوں ایوانوں کو بھیجی گئیں۔ اے جی پی کے مطابق، ان رپورٹس کو 13؍ اگست کے ایجنڈے میں شامل کیا گیا تھا لیکن اسی روز اجلاس ملتوی ہونے کے باعث پیش نہ ہو سکیں۔ بعد ازاں سیکریٹریٹ نے ہدایت دی کہ رپورٹس جمع کر کے پیش کیے جانے تک خفیہ رکھی جائیں۔ رپورٹ کے مطابق، سینیٹ کو بھیجی گئی رپورٹس تاحال سینیٹ سیکریٹریٹ کے پاس ہیں۔ اے جی پی آفس نے واضح کیا کہ اعداد و شمار میں کوئی غلطی نہیں۔ بتایا گیا ہے کہ مجموعی آڈٹ رپورٹ کی ایگزیکٹو سمری میں یہ رقوم بطور حوالہ درج کی گئیں تاکہ اسٹیک ہولڈرز سیکٹر وائز جائزہ لے سکیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ آڈٹ رپورٹس مکمل معیارِ جانچ کے بعد تیار کی گئیں اور ان میں کوئی غلطی نہیں۔ تاہم، اے جی پی کی وضاحت قومی اسمبلی کے بنیادی اعتراض کو براہِ راست دور نہیں کرتی کہ رپورٹس پارلیمنٹ میں پیشی سے پہلے ویب سائٹ پر کیوں عام کی گئیں۔ سیکریٹریٹ کے مطابق یہی بڑی وجہ تھی جس کی بنیاد پر رپورٹس واپس بھجوائی گئیں۔ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب مجموعی آڈٹ رپورٹ میں تین لاکھ 75؍ ہزار ارب روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا ذکر سامنے آیا۔ یہ رقم وفاقی بجٹ 14.

5؍ ٹریلین روپے سے 27؍ گنا زیادہ اور قومی جی ڈی پی 110 ٹریلین روپے سے تین گنا زیادہ ہے۔ حکومتی ذرائع کو شبہ ہے کہ ’’اے جی پی کے دفتر میں کوئی شخص غیر معمولی اعداد و شمار اور سرگرمی کے ذریعے حکومت کو شرمندہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘‘ سابق آڈیٹر جنرل جاوید جہانگیر نے بھی اس رقم کو ’’غیر معمولی‘‘ قرار دیتے ہوئے فوری نظرثانی کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ان کے دور میں کبھی آڈٹ رپورٹس پارلیمنٹ میں پیش کرنے سے قبل عام نہیں کی گئیں۔ موجودہ آڈیٹر جنرل اپنی مدتِ ملازمت ایک ہفتے میں مکمل کر رہے ہیں۔ نئے اے جی پی کا تقرر ہو چکا ہے اور توقع ہے کہ انہی کے فیصلے پر ان رپورٹس کی قسمت کا فیصلہ ہوگا۔

انصارعباسی

Post Views: 5

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: قومی اسمبلی ا ڈیٹر جنرل ا ڈٹ رپورٹس ا ڈٹ رپورٹ ان رپورٹس میں کوئی کے مطابق اے جی پی کی گئیں

پڑھیں:

کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار

سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔

عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔

3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔

عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔

ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔

دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔

تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔

عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار