ٹرائنگولر سیریز کی فتح،پاکستان ٹیم سے ایشیا کپ میں توقعات بڑھ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
(سابق رکن پی سی بی گورننگ بورڈ)
ایشیا کپ کا آغاز منگل کو یو اے ای میں ہو رہا ہے، ہر بار کی طرح اب بھی ٹورنامنٹ کے لیے شائقین میں خاصا جوش و خروش پایا جاتا ہے، خاص طور پر سب کو پاکستان اور بھارت کے میچ کا انتظار ہے، بدقسمتی سے گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستانی ٹیم کی کارکردگی اتنی اچھی نہیں چل رہی تھی۔
اس وجہ سے ماہرین کے ذہنوں میں یہ خدشات تھے کہ کھلاڑی ایشیا کپ میں نجانے کیسا کھیل پیش کریں گے، البتہ ٹرائنگولر سیریز کی ٹرافی جیت کر ٹیم نے یہ ثابت کر دکھایا کہ حریفوں کو اسے آسان سمجھنے کی غلطی نہیں کرنی چاہیے،5 میں سے 4میچز جیت کر کھلاڑیوں نے اپنی صلاحیتوں کا بہترین اظہار کیا، خاص طور پر فائنل میں محمد نواز نے جو کارکردگی دکھائی وہ یادگار رہے گی، ٹورنامنٹ سے قبل افغانستان کو بھارت کے بعد ایشیا کی نمبر ٹو ٹیم قرار دیا جا رہا تھا، پاکستان ٹیم نے ثابت کر دکھایا کہ یہ تاثر غلط ہے۔
وہ اب بھی اپنی اصل صلاحیتوں کے مطابق کھیلے تو کسی بھی حریف کو شکست دے سکتی ہے، اگر ہم ٹرائنگولر سیریز کا جائزہ لیں تو بیٹنگ میں ہماری ٹیم جدوجہد کرتی نظر آئی، صاحبزادہ فرحان سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کر لی گئی تھیں لیکن 5 میچز میں وہ محض 63 رنز بنا سکے، 21سب سے بڑا اسکور رہا جبکہ اوسط12 کی تھی، دوسرے اوپنر صائم ایوب نے 5میچز میں 111 رنز اسکور کیے،اس میں 69 صرف ایک اننگز میں بنائے، یعنی باقی 4 میچز میں وہ42 رنز ہی بنا سکے۔
ان کو کارکردگی میں تسلسل لانا ہوگا تب ہی بڑے بیٹسمینوں کی صف میں نام درج کرا سکیں گے، سب سے زیادہ تشویشناک کارکردگی محمد حارث کی تھی جو 5 میچز میں محض 33 رنز بنا سکے، ان کی اوسط 6 اور 15 سب سے بڑا اسکور تھا، حسن نواز بھی 5 میچز میں 93 رنز ہی بنا سکے، ان کی اوسط 18 ہی کی رہی، ایک اننگز میں 56 جبکہ باقی چار میں 37 رنز ہی بنا سکے، یہ کارکردگی کسی بھی بڑی ٹیم کی بیٹنگ لائن کے شایان شان نہیں ہے، ایشیا کپ میں یقینی طور پر اس سے بہتر بیٹنگ درکارہوگی، بینچ پر بھی کوئی بڑا نام موجود نہیں اس لیے انہی بیٹسمینوں پر انحصار کرنا پڑے گا۔
فخر زمان اور سلمان علی آغا نے بعض اننگز میں ذمہ داری کا مظاہرہ کیا لیکن ٹیم کو ان سے مزید اچھی کارکردگی درکار ہے، حارث میں اعتماد کی کمی دکھائی دے رہی ہے، وہ بالکل ٹیل اینڈرز کی طرح کھیل رہے ہیں، حالانکہ انھوں نے چند ماہ قبل ہی سنچری بھی بنائی تھی، گوکہ ٹیم مینجمنٹ صاحبزادہ فرحان کو دوسرا وکٹ کیپر قرار دیتی ہے لیکن سب جانتے ہیں کہ وہ پارٹ ٹائمر ہیں، اسی لیے حارث کو مسلسل کھلایا جا رہا ہے۔
اب امید ہی کی جا سکتی ہے کہ ایشیا کپ میں وہ بہتر بیٹنگ کریں گے، اگر ہم بولنگ کی بات کریں تو اسپنرز خصوصا محمد نواز بہترین فارم میں ہیں، ٹرائنگولر سیریز میں انھوں نے سب سے زیادہ 10 وکٹیں محض 11 کی اوسط سے لیں،اس میں فائنل کے ہیٹ ٹرک سمیت 5 شکار بھی شامل ہیں، ایک موقع پر تو انھوں نے محض ایک رن دے کر 4 وکٹیں اڑا دی تھیں۔
اسی لیے کم اسکور بنانے کے باوجود پاکستان ٹائٹل جیت گیا، سب ابتدائی روز سے کہہ رہے تھے کہ شارجہ کی اسپن بولنگ کیلیے سازگار پچ پر دونوں اسپنرز سفیان مقیم اور ابرار احمد کو ساتھ کھلایا جائے لیکن مینجمنٹ نے صرف فائنل میں ایسا کیا جس میں کارکردگی صاف ظاہر کرتی ہے کہ ایسا پہلے ہی ہو جانا چاہیے تھا، ابرار کو تو صرف 2 میچز میں موقع ملا اور انھوں نے اپنا لوہا منوا دیا، پیسر شاہین شاہ آفریدی بھی اپنے ردھم میں واپس آ رہے ہیں، ایک، ایک میچ میں حارث رؤف اور فہیم اشرف نے بھی بہتر بولنگ کی،مجموعی طور پر بولرز کی کارکردگی اچھی رہی البتہ بیٹنگ میں زیادہ محنت کرنا ہوگی،محمد نواز بیٹنگ میں بھی کارآمد ثابت ہو رہے ہیں۔
وہ ٹیم کیلیے اہم کردار ادا کریں گے، پاکستان کے گروپ میں بھارت مضبوط ٹیم ہے، ہمیشہ کی طرح اس کیخلاف میچ مشکل ثابت ہوگا، اگلے راؤنڈ میں روایتی حریفوں کا ایک اور مقابلہ ہو سکتا ہے،پھر فائنل میں رسائی پر تیسرا میچ بھی متوقع ہے، یوں شائقین کو بہترین کرکٹ دیکھنے کو مل سکتی ہے، ٹرائنگولر سیریز میں فتح نے پاکستان ٹیم سے توقعات بڑھا دی ہیں، دبئی کی کنڈیشنز کھلاڑیوں کے لیے مانوس ہیں، وہ وہاں بہتر پرفارم کر سکتے ہیں، البتہ یہ خیال رکھنا ہوگا کہ ذہنی طور پر بھارت سے میچز کا دباؤ نہ لیں، ورنہ کارکردگی پر منفی اثر پڑ سکتا ہے، گوکہ ٹیم میں بڑے نام موجود نہیں اس کے باوجود وہ فتح کی اہل ہے، بھارت کیخلاف میچز میں اچھی کارکردگی کسی کو بھی راتوں رات اسٹار بنا سکتی ہے، امید یہی ہے کہ کھلاڑی ایشیا کپ میں توقعات پر پورا اتریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹرائنگولر سیریز ایشیا کپ میں میچز میں انھوں نے سکتی ہے بنا سکے
پڑھیں:
موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے، ٹریفک جام اور سیوریج نظام مفلوج ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شہر میں رات گئے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کینٹ، ڈیفنس اور والٹن سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ کئی مقامات پر گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا۔لاہور کینٹ میں موسلادھار بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا، جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق بیشتر علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گراؤنڈ میں سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ کیولری گراؤنڈ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی، جس کے باعث آمدورفت شدید متاثر رہی۔بارش کے بعد مین ڈیفنس روڈ پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف حصوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارش کے باعث لاہور کی بیشتر شاہراہیں جل تھل ہوگئیں جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر رہی۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے نکاسی آب کے مؤثر انتظامات اور فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج دن پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، مون سون کی بارشوں کے باعث لاہور میں حبس اور گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے۔لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129 اور مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 اور گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسی آب آپریشن کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اندرون اور بیرون ملک جانے اور آنے والی پروازیں متاثر ہوگئیں۔لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی، استنبول جانے اور آنے والی 6 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شدید بارش سے پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوئی۔ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات لیکر آنے کی ہدایت کی ہے۔