(سابق رکن پی سی بی گورننگ بورڈ)

ایشیا کپ کا آغاز منگل کو یو اے ای میں ہو رہا ہے، ہر بار کی طرح اب بھی ٹورنامنٹ کے لیے شائقین میں خاصا جوش و خروش پایا جاتا ہے، خاص طور پر سب کو پاکستان اور بھارت کے میچ کا انتظار ہے، بدقسمتی سے گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستانی ٹیم کی کارکردگی اتنی اچھی نہیں چل رہی تھی۔

 اس وجہ سے ماہرین کے ذہنوں میں یہ خدشات تھے کہ کھلاڑی ایشیا کپ میں نجانے کیسا کھیل پیش کریں گے، البتہ ٹرائنگولر سیریز کی ٹرافی جیت کر ٹیم نے یہ ثابت کر دکھایا کہ حریفوں کو اسے آسان سمجھنے کی غلطی نہیں کرنی چاہیے،5 میں سے 4میچز جیت کر کھلاڑیوں نے اپنی صلاحیتوں کا بہترین اظہار کیا، خاص طور پر فائنل میں محمد نواز نے جو کارکردگی دکھائی وہ یادگار رہے گی، ٹورنامنٹ سے قبل افغانستان کو بھارت کے بعد ایشیا کی نمبر ٹو ٹیم قرار دیا جا رہا تھا، پاکستان ٹیم نے ثابت کر دکھایا کہ یہ تاثر غلط ہے۔

 وہ اب بھی اپنی اصل صلاحیتوں کے مطابق کھیلے تو کسی بھی حریف کو شکست دے سکتی ہے، اگر ہم ٹرائنگولر سیریز کا جائزہ لیں تو بیٹنگ میں ہماری ٹیم جدوجہد کرتی نظر آئی، صاحبزادہ فرحان سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کر لی گئی تھیں لیکن 5 میچز میں وہ محض 63 رنز بنا سکے، 21سب سے بڑا اسکور رہا جبکہ اوسط12 کی تھی، دوسرے اوپنر صائم ایوب نے 5میچز میں 111 رنز اسکور کیے،اس میں 69 صرف ایک اننگز میں بنائے، یعنی باقی 4 میچز میں وہ42 رنز ہی بنا سکے۔

ان کو کارکردگی میں تسلسل لانا ہوگا تب ہی بڑے بیٹسمینوں کی صف میں نام درج کرا سکیں گے، سب سے زیادہ تشویشناک کارکردگی محمد حارث کی تھی جو 5 میچز میں محض 33 رنز بنا سکے، ان کی اوسط 6 اور 15 سب سے بڑا اسکور تھا، حسن نواز بھی 5 میچز میں 93 رنز ہی بنا سکے، ان کی اوسط 18 ہی کی رہی، ایک اننگز میں 56 جبکہ باقی چار میں 37 رنز ہی بنا سکے، یہ کارکردگی کسی بھی بڑی ٹیم کی بیٹنگ لائن کے شایان شان نہیں ہے، ایشیا کپ میں یقینی طور پر اس سے بہتر بیٹنگ درکارہوگی، بینچ پر بھی کوئی بڑا نام موجود نہیں اس لیے انہی بیٹسمینوں پر انحصار کرنا پڑے گا۔

 فخر زمان اور سلمان علی آغا نے بعض اننگز میں ذمہ داری کا مظاہرہ کیا لیکن ٹیم کو ان سے مزید اچھی کارکردگی درکار ہے، حارث میں اعتماد کی کمی دکھائی دے رہی ہے، وہ بالکل ٹیل اینڈرز کی طرح کھیل رہے ہیں، حالانکہ انھوں نے چند ماہ قبل ہی سنچری بھی بنائی تھی، گوکہ ٹیم مینجمنٹ صاحبزادہ فرحان کو دوسرا وکٹ کیپر قرار دیتی ہے لیکن سب جانتے ہیں کہ وہ پارٹ ٹائمر ہیں، اسی لیے حارث کو مسلسل کھلایا جا رہا ہے۔

 اب امید ہی کی جا سکتی ہے کہ ایشیا کپ میں وہ بہتر بیٹنگ کریں گے، اگر ہم بولنگ کی بات کریں تو اسپنرز خصوصا محمد نواز بہترین فارم میں ہیں، ٹرائنگولر سیریز میں انھوں نے سب سے زیادہ 10 وکٹیں محض 11 کی اوسط سے لیں،اس میں فائنل کے ہیٹ ٹرک سمیت 5 شکار بھی شامل ہیں، ایک موقع پر تو انھوں نے محض ایک رن دے کر 4 وکٹیں اڑا دی تھیں۔

 اسی لیے کم اسکور بنانے کے باوجود پاکستان ٹائٹل جیت گیا، سب ابتدائی روز سے کہہ رہے تھے کہ شارجہ کی اسپن بولنگ کیلیے سازگار پچ پر دونوں اسپنرز سفیان مقیم اور ابرار احمد کو ساتھ کھلایا جائے لیکن مینجمنٹ نے صرف فائنل میں ایسا کیا جس میں کارکردگی صاف ظاہر کرتی ہے کہ ایسا پہلے ہی ہو جانا چاہیے تھا، ابرار کو تو صرف 2 میچز میں موقع ملا اور انھوں نے اپنا لوہا منوا دیا، پیسر شاہین شاہ آفریدی بھی اپنے ردھم میں واپس آ رہے ہیں، ایک، ایک میچ میں حارث رؤف اور فہیم اشرف نے بھی بہتر بولنگ کی،مجموعی طور پر بولرز کی کارکردگی اچھی رہی البتہ بیٹنگ میں زیادہ محنت کرنا ہوگی،محمد نواز بیٹنگ میں بھی کارآمد ثابت ہو رہے ہیں۔

وہ ٹیم کیلیے اہم کردار ادا کریں گے، پاکستان کے گروپ میں بھارت مضبوط ٹیم ہے، ہمیشہ کی طرح اس کیخلاف میچ مشکل ثابت ہوگا، اگلے راؤنڈ میں روایتی حریفوں کا ایک اور مقابلہ ہو سکتا ہے،پھر فائنل میں رسائی پر تیسرا میچ بھی متوقع ہے، یوں شائقین کو بہترین کرکٹ دیکھنے کو مل سکتی ہے، ٹرائنگولر سیریز میں فتح نے پاکستان ٹیم سے توقعات بڑھا دی ہیں، دبئی کی کنڈیشنز کھلاڑیوں کے لیے مانوس ہیں، وہ وہاں بہتر پرفارم کر سکتے ہیں، البتہ یہ خیال رکھنا ہوگا کہ ذہنی طور پر بھارت سے میچز کا دباؤ نہ لیں، ورنہ کارکردگی پر منفی اثر پڑ سکتا ہے، گوکہ ٹیم میں بڑے نام موجود نہیں اس کے باوجود وہ فتح کی اہل ہے، بھارت کیخلاف میچز میں اچھی کارکردگی کسی کو بھی راتوں رات اسٹار بنا سکتی ہے، امید یہی ہے کہ کھلاڑی ایشیا کپ میں توقعات پر پورا اتریں گے۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ٹرائنگولر سیریز ایشیا کپ میں میچز میں انھوں نے سکتی ہے بنا سکے

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا