برطانیہ کا چند ممالک پر ویزا پابندی لگانے پر غور، وجہ کیا ہے اور کون متاثر ہوگا؟
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
برطانیہ کی نئی ہوم سیکریٹری شبانہ محمود نے عندیہ دیا ہے کہ ایسے ممالک کے لیے برطانوی ویزے معطل کیے جا سکتے ہیں جو اپنے شہریوں کو واپس لینے کے معاملے میں تعاون نہیں کرتے۔
لندن میں ’فائیو آئیز‘ انٹیلی جنس اتحاد کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ کے لیے سب سے بڑی ترجیح سرحدوں کا تحفظ اور غیر قانونی ہجرت پر قابو پانا ہے، اجلاس میں امریکا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور کینیڈا کے وزرا نے بھی شرکت کی۔
شبانہ محمود نے کہا کہ برطانیہ ایسے ممالک کے ساتھ ویزا پالیسی میں تبدیلی پر غور کر رہا ہے جو اپنے شہریوں کو واپس لینے سے گریز کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ کی نئی وزیر داخلہ شبانہ محمود کون ہیں؟
’اگر کسی شخص کو برطانیہ میں رہنے کا حق نہیں تو اسے لازماً اپنے وطن واپس بھیجا جانا چاہیے، اور جو ممالک اس اصول پر عمل نہیں کرتے انہیں ویزا معطلی جیسے اقدامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘
ہوم سیکریٹری نے کسی مخصوص ملک کا نام نہیں لیا، تاہم ماہرین کے مطابق بھارت، بنگلہ دیش، پاکستان اور نیپال جیسے ممالک میں برطانوی ویزا کی مانگ زیادہ ہے جبکہ ان کی جانب سے پناہ گزینوں کی واپسی کی شرح کم دیکھی جاتی ہے۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق رواں سال اب تک 30 ہزار سے زائد افراد چھوٹی کشتیوں کے ذریعے برطانیہ پہنچ چکے ہیں، جو پچھلے سال کی نسبت 37 فیصد زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں:نومنتخب برطانوی وزیراعظم نے کابینہ کا اعلان کردیا، پاکستانی نژاد خاتون بھی شامل
صرف ہفتہ کے روز ایک ہزار سے زائد افراد پہنچے، جو ریکارڈ میں سب سے زیادہ دنوں میں شمار ہوتا ہے، برطانوی ہوم سیکریٹری نے اس صورتحال کو ’ناقابلِ قبول‘ قرار دیا۔
کنزرویٹو پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اور شیڈو ہوم سیکریٹری کرس فلپ نے لیبر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صرف سخت بیانات کافی نہیں، عملی اقدامات کرنا ہوں گے، ان کے مطابق برطانیہ کو ان ممالک کی امداد بھی ختم کر دینی چاہیے جو اپنے شہریوں کو واپس لینے سے انکار کرتے ہیں۔
اجلاس میں غیر قانونی ہجرت کے علاوہ آن لائن بچوں کے جنسی استحصال اور نشہ آور ادویات کے پھیلاؤ پر بھی بات ہوئی، اجلاس میں امریکی ہوم لینڈ سیکیورٹی سیکریٹری کرسٹی نوم، کینیڈا کے وزیر برائے پبلک سیفٹی گیری آنندا سنگھ، آسٹریلیا کے وزیر داخلہ ٹونی برک اور نیوزی لینڈ کی وزیر جوڈتھ کولنز نے شرکت کی۔
مزید پڑھیں: برطانیہ میں پرتشدد مظاہرے جاری، 6 دن میں 400 سے زائد شہری گرفتار
شبانہ محمود کی ہوم سیکریٹری کے طور پر تقرری کو وزیر اعظم کی جانب سے ایک واضح پیغام سمجھا جا رہا ہے کہ حکومت غیر قانونی ہجرت اور پناہ کے معاملات کو اپنی بڑی ترجیحات میں شامل رکھے گی۔
دفاعی سیکریٹری جان ہیلی نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حکومت پناہ گزینوں کو ہوٹلوں سے منتقل کر کے فوجی تنصیبات یا دیگر متبادل جگہوں پر رکھنے کے منصوبے پر غور کر رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آسٹریلیا امریکا آن لائن برطانوی ویزے برطانیہ پناہ جنسی استحصال شبانہ محمود غیر قانونی ہجرت کینیڈا نشہ آور ادویات نیوزی لینڈ ہوم سیکریٹری ویزا پالیسی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا سٹریلیا امریکا ا ن لائن برطانوی ویزے برطانیہ پناہ جنسی استحصال کینیڈا نشہ آور ادویات نیوزی لینڈ ہوم سیکریٹری ویزا پالیسی ہوم سیکریٹری
پڑھیں:
پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
پشاور:خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں بجلی کا طویل اور غیر معمولی بریک ڈاؤن شہریوں کے لیے عذاب بن گیا۔
شدید آندھی اور طوفان کے بعد شام تقریباً 6 بجے اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔
بجلی کی بندش کے باعث پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں موجود بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔
مزید پڑھیںپشاور سے کراچی تک نئی عوام ایکپریس ٹرین سروس شروع
شہریوں کا کہنا ہے کہ آندھی شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تاہم طوفان کے خاتمے کے کئی گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگ رات گئے تک بجلی کی واپسی کے منتظر رہے۔
دوسری جانب پیسکو حکام کے مطابق طوفانی موسم کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث مختلف فیڈرز متاثر ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں اور مرحلہ وار بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے۔