کراچی میں کار چوروں کا نیٹ ورک بے نقاب؛ گاڑیاں بلوچستان میں فروخت ہونے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
کراچی:
اینٹی وہیکل لفٹنگ سیل (اے وی ایل سی) پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مبینہ مقابلے کے بعد ایک کار لفٹر کو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق قصبہ کالونی پراچہ قبرستان کے قریب پیر اور منگل کی درمیانی شب مقابلے کے دوران 24 سالہ محسن علی ولد غلام شبیر زخمی ہوا جسے چھیپا ایمبولینس کے ذریعے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا۔
ترجمان کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم امجد لاشاری گینگ کا کارندہ ہے جو کراچی میں 10 سے 12 گاڑیاں چوری کرچکا ہے۔ ملزم چوری شدہ گاڑیاں بلوچستان مشک میں فروخت کرتا تھا۔ پولیس نے کارروائی کے دوران اسلحہ بمعہ گولیاں، موبائل فون، نقد رقم اور ایک چوری شدہ کار بھی برآمد کرلی۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزم کے خلاف برآمد شدہ اسلحہ اور پولیس مقابلے کے مقدمات تھانہ پیرآباد میں درج کیے جا رہے ہیں جب کہ ساتھی ملزمان کی گرفتاری اور مزید گاڑیوں کی برآمدگی کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔