کراچی(نیوز ڈیسک)کراچی کے علاقے ملیر ہالٹ کے قریب واٹر ٹینکر کی موٹر سائیکل کو ٹکر سے حاملہ خاتون شوہر سمیت جاں بحق ہوگئی، جنم لینے والا نومولود بھی دم توڑ گیا۔

کراچی میں ایک اور المناک حادثہ پیش آیا، جہاں ملیر ہالٹ بس اسٹاپ کے قریب ایک اور موٹرسائیکل سوار خاندان ہیوی ٹریفک کی زد میں آگیا۔

پولیس کے مطابق شوہر اپنی اہلیہ کو چیک اپ کرانے کے لیے موٹرسائیکل پر اسپتال لے جارہا تھا، اس دوران پانی سے بھرے واٹر ٹینکر نے موٹر سائیکل سوار خاندان کو کچل دیا۔

حادثے کے نتیجے میں خاتون اور مرد شدید زخمی ہوئے، بعد ازاں خاتون اور مرد دم توڑ گئے، جاں بحق ہونے والے میاں بیوی ہیں۔

پولیس کے مطابق بیوی حاملہ تھی جس نے زخمی حالت میں بچے کو جنم دیا، موقع پر موجود لوگ بچے کو لیکر اسپتال کی طرف بھاگے، لیکن بچہ بھی جانبر نہ ہو سکا۔

پولیس نے بتایا کہ مرنے والے میاں بیوی ناتھا خان کے رہائشی تھے۔ جن کی شناخت شناخت 24 سالہ زنیب اور 26 سالہ عبدالقیوم کے ناموں سے کرلی گئی ہے۔

پولیس نے بتایا کہ حادثے کے بعد مشتعل عوام نے واٹر ٹینکر کو آگ لگانے کی کوشش کی، جبکہ واٹر ٹینکر کا ڈرائیور موقع سے فرار ہوگیا۔

حادثے کے فوری بعد پولیس اور سیکیورٹی اداروں کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور ٹریفک کی روانی کو بحال کرایا۔

بعدازاں، ایس ایس پی کورنگی طارق نواز نے بتایا کہ پولیس نے ٹینکر کے ڈرائیور اور ہیلپر کو گرفتار کرلیا گیا ہے، جبکہ واٹر ٹینکر کو تحویل میں لے کر ماڈل کالونی پولیس اسٹیشن منتقل کردیا گیا ہے، دونوں گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ رواں سال ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 214 ہوگئی جبکہ رواں سال ہیوی ٹریفک سے اب تک 68 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

واٹر ٹینکر کے ڈرائیور کو الٹا لٹکانے کا مطالبہ
حادثے میں جاں بحق ہونے والی متوفیہ زینب کے والد گل رحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میری بیٹی حاملہ تھی، علاج کے غرض سے گھر سے نکلی تھی، واٹر ٹینکر نے میری بیٹی اور داماد کو کچل ڈالا۔

والد نے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث واٹر ٹینکر کے ڈرائیور کو الٹا لٹکا دیا جائے۔

متوفی عبد القیوم کے بھائی کا حکومت سے انصاف کا مطالبہ
ٹینکر حادثے میں جاں بحق ہونے والے عبد القیوم کے بھائی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حکومت سے ٹینکر مافیا کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

متوفی کے بھائی نے بتایا کہ انہیں عبد القیوم کی موت کی اطلاع قریبی رشتہ داروں سے ملی۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب عبد القیوم اپنی اہلیہ کے ساتھ کوہی گوٹھ سے اپنے گھر جا رہے تھے۔

متوفی کے بھائی کے مطابق، ’عبد القیوم کی شادی تقریباً ایک سال پہلے ہوئی تھی اور ان کے ہاں جلد بچے کی ولادت متوقع تھی۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ عبد القیوم کنٹونمنٹ بورڈ ملیر کے ملازم اور ملیر کینٹ کے رہائشی تھے۔

متوفی کے بھائی نے حکومت سے اپیل کی کہ ٹینکر مافیا کو لگام دی جائے تاکہ کسی اور خاندان کو اس طرح کا صدمہ نہ جھیلنا پڑے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ دن کے اوقات میں ان بھاری گاڑیوں کے شہر میں داخلے پر مکمل پابندی عائد کی جائے تاکہ ایسے المناک حادثات کو روکا جا سکے۔

آفاق احمد متاثرہ فیملی کے گھر پہنچ گئے
درد ناک واقعے خبر ملتے ہی مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمین آفاق احمد ملیر ہالٹ میں واقع متاثرہ فیملی کے گھر پہنچے، جہاں انہوں نے جاں بحق موٹرسائیکل سوار شخص عبدالقیوم کے بھائی سے تعزیت کی اور واقعے کی ایف آئی آر درج کرانے کے لیے تھانے چلے گئے۔
مزیدپڑھیں:کیا نے مزید 2 گاڑیوں کا رعایتی قسطوں پر حصول کیسے ممکن بنادیا؟

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: جاں بحق ہونے نے بتایا کہ عبد القیوم واٹر ٹینکر القیوم کے کے بھائی

پڑھیں:

ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم

حکومتِ پنجاب نے ٹریفک نظام کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے شہریوں کے لیے ایک بہترین اور زبردست سہولت والے اقدام کا اعلان کیا ہے۔

حکومتی فیصلے کے مطابق اب صوبے بھر میں گاڑی یا موٹر سائیکل چلانے والوں کو ہر وقت پلاسٹک یا کاغذی ڈرائیونگ لائسنس اپنے ساتھ رکھنے کی ضرورت نہیں ہوگی، بلکہ ان کے موبائل فون میں موجود ’ای ڈرائیونگ لائسنس‘ کو قانونی طور پر مکمل قابل قبول قرار دے دیا گیا ہے۔

ڈی ایل آئی ایم ایس کا جدید ڈیجیٹل نظام

پنجاب ٹریفک پولیس کے اعلیٰ حکام کے مطابق یہ نیا اور پیپر لیس نظام ’ڈرائیونگ لائسنس انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم (ڈی ایل آئی ایم ایس) کے تحت کام کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں 16 تا 18 سال کے بچوں کے ڈرائیونگ لائسنس کا اجرا شروع

اس اسمارٹ ڈیجیٹل اقدام کا بنیادی مقصد روایتی کاغذی کارروائی اور لائسنس گم ہونے یا گھر بھول جانے کے باعث شہریوں کو چالان کے خوف سے نجات دلانا اور ٹریفک کے پورے نظام کو تیز رفتار اور مؤثر بنانا ہے۔

موبائل فون پر لائسنس دکھائیں اور چالان سے بچیں

نئے قوانین کے تحت اب سڑک پر موجود ٹریفک وارڈنز اور اہلکاروں کے لیے موبائل اسکرین پر دکھایا جانے والا ڈیجیٹل لائسنس ہی حتمی اور درست تصور کیا جائے گا۔

پولیس کے اعلیٰ حکام نے سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ٹریفک اہلکار، شخص یا ادارہ اس ڈیجیٹل لائسنس کو تسلیم کرنے سے انکار کرے، تو شہری اس کے خلاف فوری طور پر قانونی شکایت درج کروا سکتے ہیں۔

شکایت کے لیے واٹس ایپ نمبر اور ہیلپ لائن جاری

ٹریفک پولیس پنجاب نے شہریوں کی سہولت اور کسی بھی قسم کی بدتمیزی یا انکار کی صورت میں فوری ایکشن کے لیے درج ذیل رابطے فراہم کیے ہیں، سرکاری ہیلپ لائن نمبر1787 جبکہ آفیشل واٹس ایپ نمبر 03184642936 ہوگا۔

مزید پڑھیں:دبئی کا ڈرائیونگ لائسنس پاکستان میں نہیں چلے گا، ٹریفک پولیس نے اوورسیز پاکستانی کا چالان کردیا

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تمام متعلقہ اداروں اور اہلکاروں کے لیے ای لائسنس کو قبول کرنا لازمی ہوگا اور اس حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔

ڈاؤن لوڈ کرنے کا طریقہ کار

شہری اپنا پورٹیبل ای ڈرائیونگ لائسنس انتہائی آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے انہیں پنجاب حکومت کی آفیشل ویب سائٹ https://dlims.punjab.gov.pk/elicense پر جانا ہوگا، جہاں وہ اپنا شناختی کارڈ نمبر اور دیگر مطلوبہ معلومات درج کر کے اپنا لائسنس دیکھ اور پی ڈی ایف فارمیٹ میں موبائل میں محفوظ کر سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پورٹیبل ٹریفک پولیس پنجاب ڈاؤن لوڈ ڈرائیونگ ڈی ایل آئی ایم ایس شہری لائسنس موبائل فون ہیلپ لائن

متعلقہ مضامین

  • اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
  • گورنر سٹیٹ بنک کے بھائی آصف جاوید انتقال کر گئے
  • کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے