ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ کے گورنر نے کہا ہے کہ وہ وفاقی دارالحکومت میں کسی بھی قسم کے احتجاج پر پابندی میں یکم اپریل تک توسیع کر رہے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس حوالے سے گورنر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ پابندی یکم اپریل کو رات 11 بج کر 59 منٹ تک جاری رہے گی۔استنبول اور مغربی شہر ازمیر میں بھی احتجاجی مظاہروں پر پابندی عائد ہے.

لیکن 19 مارچ کو ملک کی اہم اپوزیشن جماعت کے رہنما کی گرفتاری اور اس کے بعد انہیں جیل بھیجنے پر ملک بھر میں بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔اس سے ایک ہفتہ قبل ترکیہ کے وزیر داخلہ نے بتایا تھا کہ ترک حکام نے سوشل میڈیا پر ’اشتعال انگیز‘ مواد شیئر کرنے پر 37 افراد کو حراست میں لیا ہے  اور استنبول کے میئر کی گرفتاری کے بعد اختلافی آوازوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ میئر استنبول اکرام امام اوغلو کی گزشتہ ہفتے ڈگری منسوخ کی گئی تھی. جس کی وجہ سے وہ صدارتی الیکشن میں حصہ لینے کی دوڑ سے باہر ہوگئے تھے، بعد ازاں انہیں حراست میں لے لیا گیا تھا، اور عدالت نے بدعنوانی کے مقدمے میں انہیں باضابطہ گرفتار کروا دیا تھا۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا

کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔

میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔

مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔

یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔

خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔

مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟